تلنگانہ

تلنگانہ کرائم رپورٹ 2025: قتل، جنسی زیادتی اور فسادات میں نمایاں کمی، لاء اینڈ آرڈر مستحکم: ڈی جی پی

ڈی جی پی کے مطابق سال 2025 میں مجموعی جرائم میں 2.33 فیصد کمی درج کی گئی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ پولیس کی جانب سے جرائم کی روک تھام اور عوامی تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں سال 2025 کے دوران جرائم کی مجموعی صورتحال میں واضح بہتری درج کی گئی ہے۔ تلنگانہ پولیس کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس شیو دھر ریڈی نے کہا کہ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر مکمل طور پر قابو میں ہے اور کئی سنگین جرائم میں خاطر خواہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ڈی جی پی کے مطابق سال 2025 میں مجموعی جرائم میں 2.33 فیصد کمی درج کی گئی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ پولیس کی جانب سے جرائم کی روک تھام اور عوامی تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق قتل کے واقعات میں 8.76 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ جنسی زیادتی کے مقدمات میں 13.45 فیصد کمی درج کی گئی۔ اسی طرح ڈکیتی کے کیسز میں 27.16 فیصد اور فسادات و رائٹنگ کے واقعات میں 42.59 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ پانچ برسوں میں سب سے کم سطح ہے۔

ڈی جی پی نے بتایا کہ رواں سال گرام پنچایت انتخابات جیسے بڑے عوامی عمل کے باوجود صرف 186 رائٹنگ کے مقدمات درج ہوئے، جو نہ صرف گزشتہ سال سے کم ہیں بلکہ گزشتہ پانچ سال میں سب سے کم تعداد ہے۔ یہ ریاست میں مضبوط لاء اینڈ آرڈر کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اغوا اور زبردستی اٹھانے (Kidnapping & Abduction) کے معاملات میں 24.92 فیصد کمی درج کی گئی، جبکہ چیٹنگ اور دھوکہ دہی کے کیسز میں 15.54 فیصد کمی آئی ہے۔ اسی طرح چوری کے مجموعی مقدمات میں 9.13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

البتہ بعض زمروں میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔ چوری میں نقب زنی (Burglary) کے مقدمات میں معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ کرمنل بریچ آف ٹرسٹ کے کیسز میں 23.11 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ اسی طرح این ڈی پی ایس (منشیات) ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں 30.36 فیصد اضافہ ہوا ہے، جسے پولیس نے منشیات کے خلاف سخت کارروائیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

سڑک حادثات سے متعلق اعداد و شمار پر بات کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا کہ اگرچہ حادثات کی تعداد میں 5.68 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم سڑک حادثات میں اموات میں 7.9 فیصد کمی اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں 31.8 فیصد کمی درج کی گئی ہے، جو بہتر ٹریفک نگرانی اور ایمرجنسی رسپانس کا نتیجہ ہے۔

ڈی جی پی شیو دھر ریڈی نے مزید کہا کہ سی ای آئی آر (CEIR) پورٹل کے ذریعے تلنگانہ لاپتہ موبائل فونز کی بازیابی میں پورے ملک میں پہلے نمبر پر ہے۔ اب تک ایک لاکھ سے زائد موبائل فونز بازیاب کر کے مالکان کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ میں لاء اینڈ آرڈر سے متعلق منفی بیانات غلط اور گمراہ کن ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنسی زیادتی، قتل، ڈکیتی اور فسادات جیسے سنگین جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے اور ریاست میں امن و امان کی صورتحال مستحکم ہے۔

ڈی جی پی کے مطابق مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تلنگانہ میں جرائم کی صورتحال گزشتہ برسوں کے مقابلے بہتر ہوئی ہے اور پولیس عوام کے تحفظ، امن و امان اور انصاف کی فراہمی کے لیے پوری مستعدی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔