تلنگانہ

تلنگانہ حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کے لیے ڈی اے جاری، چیف منسٹر کا بڑا اعلان

تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ریاستی سرکاری ملازمین کے لیے ڈئیرنس الاؤنس (ڈی اے) جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ریاستی سرکاری ملازمین کے لیے ڈئیرنس الاؤنس (ڈی اے) جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ چیف منسٹر نے ڈی اے سے متعلق فائل پر دستخط کر دیے، جسے سَنکرانتی تہوار سے قبل ملازمین کے لیے ایک اہم تحفہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس فیصلے سے ریاست بھر کے لاکھوں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا، جنہیں کافی عرصے سے ڈی اے کے اجراء کا انتظار تھا۔

ریاستی حکومت کے مطابق، ڈی اے کے اجراء سے سرکاری خزانے پر ہر ماہ تقریباً 225 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ اس کے باوجود حکومت نے ملازمین کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اس موقع پر ریاست کی مالی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت کو سابقہ حکومت سے بھاری بقایاجات اور قرضوں کا بوجھ وراثت میں ملا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملازمین کے واجبات، کنٹریکٹرس کے بقایا جات، بجلی اداروں اور سنگارینی جیسے محکموں کے واجبات سمیت مجموعی مالی دباؤ بہت زیادہ ہے۔

اس کے باوجود حکومت مرحلہ وار بقایاجات ادا کر رہی ہے اور مالی نظم و ضبط کے ساتھ فلاحی فیصلے لے رہی ہے۔

چیف منسٹر نے کہا کہ سرکاری ملازمین ہی حکومت اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ غریبوں تک فلاحی اسکیموں کی ترسیل میں ملازمین کی محنت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو جو سماجی وقار حاصل ہے، اس میں ملازمین کا اہم کردار ہے۔

ریونت ریڈی نے یقین دلایا کہ حکومت ملازمین کے دیگر مسائل جیسے ریٹائرمنٹ فوائد، صحت تحفظ، اور ملازمین کی تنظیموں کے دفاتر کی تعمیر پر بھی مثبت رویہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی نمائندہ تنظیموں کی جانب سے دی گئی درخواستوں پر دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

چیف منسٹر نے واضح کیا کہ حکومت نئے ٹیکس عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، بلکہ ٹیکس چوری روک کر اور نظام میں خامیوں کو درست کر کے آمدنی میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ ملازمین کو تنخواہیں، ڈی اے اور دیگر فوائد وقت پر ادا کیے جا سکیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت تمام طبقات کے ساتھ مل کر ریاست کو معاشی طور پر مضبوط بنانے اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔