تلنگانہ

تلنگانہ: قدیم مندر کے قریب خفیہ خزانہ کی تلاش میں غیرقانونی کھدائی، عوام میں تشویش

ذرائع کے مطابق، سوامی جی کے مندر سے کچھ فاصلہ پر واقع ایک قدیم شیو لنگ کے پاس پوجا کے بعد گڑھے کھودے گئے۔ اس مقام پر ایک مٹی کا برتن، سرخ کپڑا، ہلدی اور پانی کی بوتل جیسی مشکوک اشیاء برآمد ہوئی ہیں جس سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ سب خفیہ خزانہ کی تلاش کے لیے کیا گیا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے میڑچل ملکاجگری ضلع کے کیسرگٹہ علاقہ میں واقع قدیم مندر کے پیچھے واقع لنگالاکنٹہ مقام پر بعض نامعلوم افراد کی جانب سے خفیہ خزانہ کی تلاش میں غیر قانونی کھدائی کی گئی ہے۔ اس بات کے شواہد حالیہ دنوں میں سامنے آئے ہیں۔

متعلقہ خبریں
مئیر نے شہریوں کو دسہرہ کی مبارکباد دی
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
اقراء مشن ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، کے ۴۰ سالہ ‘روبی جوبلی’ جشن کا شاندار انعقاد
زیارتِ قبور سنتِ نبویؐ، شبِ برات میں خاص روحانی اہمیت کی حامل: صابر پاشاہ


ذرائع کے مطابق، سوامی جی کے مندر سے کچھ فاصلہ پر واقع ایک قدیم شیو لنگ کے پاس پوجا کے بعد گڑھے کھودے گئے۔ اس مقام پر ایک مٹی کا برتن، سرخ کپڑا، ہلدی اور پانی کی بوتل جیسی مشکوک اشیاء برآمد ہوئی ہیں جس سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ سب خفیہ خزانہ کی تلاش کے لیے کیا گیا ہے۔


ماضی میں بھی اس علاقہ میں خفیہ خزانہ کی تلاش کے لیے اس نوعیت کی سرگرمیاں منظر عام پر آ چکی ہیں۔
عوامی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اب تک مقامی حکام یا محکمہ آثارِ قدیمہ کی جانب سے اس واقعہ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

اگر یہ آثار واقعی خفیہ خزانہ کی کھدائی کے ہیں، تو اس واقعہ کے ذمہ دارون کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جانی چاہیے، تاکہ ثقافتی ورثہ کا تحفظ ممکن ہو سکے۔