تلنگانہ

تلنگانہ: قدیم مندر کے قریب خفیہ خزانہ کی تلاش میں غیرقانونی کھدائی، عوام میں تشویش

ذرائع کے مطابق، سوامی جی کے مندر سے کچھ فاصلہ پر واقع ایک قدیم شیو لنگ کے پاس پوجا کے بعد گڑھے کھودے گئے۔ اس مقام پر ایک مٹی کا برتن، سرخ کپڑا، ہلدی اور پانی کی بوتل جیسی مشکوک اشیاء برآمد ہوئی ہیں جس سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ سب خفیہ خزانہ کی تلاش کے لیے کیا گیا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے میڑچل ملکاجگری ضلع کے کیسرگٹہ علاقہ میں واقع قدیم مندر کے پیچھے واقع لنگالاکنٹہ مقام پر بعض نامعلوم افراد کی جانب سے خفیہ خزانہ کی تلاش میں غیر قانونی کھدائی کی گئی ہے۔ اس بات کے شواہد حالیہ دنوں میں سامنے آئے ہیں۔

متعلقہ خبریں
مئیر نے شہریوں کو دسہرہ کی مبارکباد دی
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی


ذرائع کے مطابق، سوامی جی کے مندر سے کچھ فاصلہ پر واقع ایک قدیم شیو لنگ کے پاس پوجا کے بعد گڑھے کھودے گئے۔ اس مقام پر ایک مٹی کا برتن، سرخ کپڑا، ہلدی اور پانی کی بوتل جیسی مشکوک اشیاء برآمد ہوئی ہیں جس سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ سب خفیہ خزانہ کی تلاش کے لیے کیا گیا ہے۔


ماضی میں بھی اس علاقہ میں خفیہ خزانہ کی تلاش کے لیے اس نوعیت کی سرگرمیاں منظر عام پر آ چکی ہیں۔
عوامی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اب تک مقامی حکام یا محکمہ آثارِ قدیمہ کی جانب سے اس واقعہ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

اگر یہ آثار واقعی خفیہ خزانہ کی کھدائی کے ہیں، تو اس واقعہ کے ذمہ دارون کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جانی چاہیے، تاکہ ثقافتی ورثہ کا تحفظ ممکن ہو سکے۔