تلنگانہ کے سرمائی اجلاس کا پیر سے آغاز۔ پانی کے تنازعہ اور دیگر مسائل پرہنگامہ آرائی کے آثار
بی آر ایس صدر کے چندر شیکھر راؤ جو گزشتہ دو سالوں سے عوامی تقاریب سے دور تھے نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی حکومت کو ناکارہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ پالمورو۔رنگاریڈی آبپاشی پراجکٹ کے معاملہ میں مرکز پر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کا سرمائی اجلاس پیر سے شروع ہوگا جس کے انتہائی ہنگامہ خیز ہونے کی توقع ہے۔
حکمران جماعت کانگریس اور اپوزیشن بی آر ایس کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے معاملہ پر جاری لفظی جنگ اس اجلاس کا مرکزی ایجنڈا رہے گی۔
بی آر ایس نے حال ہی میں تلنگانہ کے آبی حقوق کے تحفظ کے لئے تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے جواب میں کانگریس حکومت نے اپوزیشن کو اسمبلی میں کھلی بحث کا چیلنج دیا ہے۔
بی آر ایس صدر کے چندر شیکھر راؤ جو گزشتہ دو سالوں سے عوامی تقاریب سے دور تھے نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی حکومت کو ناکارہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ پالمورو۔رنگاریڈی آبپاشی پراجکٹ کے معاملہ میں مرکز پر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہی ہے۔
اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے چندرشیکھرراوکو اسمبلی اجلاس میں شرکت کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش کے مقابلہ میں چندرشیکھرراو نے تلنگانہ کو زیادہ دھوکہ دیا ہے۔
ریونت ریڈی نے 24 دسمبر کو یہ عہد بھی کیا کہ وہ جب تک سیاست میں ہیں چندرشیکھرراو کے خاندان کو دوبارہ اقتدار میں نہیں آنے دیں گے۔
پانی کے مسائل کے علاوہ، بی آر ایس خواتین کے لئے ماہانہ 2,500 روپے کی مالی امداد اور شادیوں کے لئے سونے کا تحفہ جیسے انتخابی وعدوں پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرے گی۔
دوسری جانب، کانگریس حکومت کالیشورم پروجیکٹ میں ہونے والی مبینہ بے قاعدگیوں پر عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے ذریعہ بی آر ایس پر جوابی وار کرنے کی تیاری میں ہے۔ کانگریس جوبلی ہلز ضمنی انتخاب اور گرام پنچایت انتخابات میں کامیابی کے بعد پر اعتماد ہے جبکہ بی آر ایس دیہی انتخابات میں بہتر کارکردگی دکھانے کے بعد اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔