تلنگانہ

بی آر ایس حکومت کے دور میں مندروں پر حملے کیے گئے تھے:راجہ سنگھ

لیکن اب عوام میں بیداری آئی ہے۔ ایسی کسی بھی کوشش کو ہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے،" انہوں نے بونال فیسٹول کے موقع پر میڈیاسے بات کرتے ہویے کہاکہ مندر میں موجود ایک وزیر نے ان سے ریاست میں ماڈل گؤشالہ کے قیام کے سلسلہ میں تعاون کی خواہش ظاہر کی۔

حیدرآباد: تلنگانہ بی جے پی کے مستعفی رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے الزام لگایا کہ سابق بی آر ایس حکومت کے دور میں مندروں پر حملے کیے گئے تھے اور بونال تہذیب کو مٹانے کے لیے منظم سازشیں رچی گئیں۔

متعلقہ خبریں
راجہ سنگھ کو حلقہ لوک سبھا ظہیرآباد سے الیکشن لڑنے پارٹی کا مشورہ
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی

لیکن اب عوام میں بیداری آئی ہے۔ ایسی کسی بھی کوشش کو ہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے،” انہوں نے بونال فیسٹول کے موقع پر میڈیاسے بات کرتے ہویے کہاکہ مندر میں موجود ایک وزیر نے ان سے ریاست میں ماڈل گؤشالہ کے قیام کے سلسلہ میں تعاون کی خواہش ظاہر کی۔

راجا سنگھ نے کہا کہ "پارٹی کچھ بھی ہو، لیکن ہندو سنسکرتی کا تحفظ سب کی اولین ذمہ داری ہے۔”بی جے پی کے متنازعہ رکن اسمبلی نے حال ہی میں ریاستی پارٹی کی صدارت کے لیے ہویے انتخاب کے موقع پر انہیں اعلی کمان کی جانب سے موقع نہ دینے اور پارٹی کی ریاستی قیادت سے اختلافات کے بعد پارٹی سے استعفی دے دیا ہے۔