تلنگانہ

اسمبلی محض سیاسی الزام تراشی اور نمائشی سرگرمیوں تک محدود ہو چکی ہے: کلواکنٹلہ کویتا

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کہا ہے کہ موجودہ اسمبلی کارروائیاں عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی الزام تراشی، وقت گزاری اور نمائشی سرگرمیوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

حیدرآباد: صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کہا ہے کہ موجودہ اسمبلی کارروائیاں عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی الزام تراشی، وقت گزاری اور نمائشی سرگرمیوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ کو دہشت گرد سے تشبیہ دینے اور پھانسی جیسے الفاظ استعمال کرنے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ تلنگانہ کی توہین کے مترادف بھی ہے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
ریونت ریڈی کرپشن کے شہنشاہ، تلنگانہ کے مفادات کو نظرانداز کر رہے ہیں: کویتا
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

کلواکنٹلہ کویتا نے قانون ساز کونسل کے چیئرمین جی سکھیندر ریڈی سے ملاقات کی اور اپنے استعفیٰ کی منظوری کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ استعفیٰ منظور کرنے سے قبل انہیں ایوان میں اظہارِ خیال کا موقع دیا جائے تاکہ وہ عوام کے سامنے اپنے فیصلے کی وجوہات بیان کر سکیں۔ چیئرمین نے یقین دہانی کرائی کہ 5 یا 6 جنوری کو کسی ایک دن انہیں کونسل میں اظہارِ خیال کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

بعد ازاں میڈیا پوائنٹ پر خطاب کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے تلنگانہ کے عوام کو نئے سال کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ بطور بیٹی ان کی خواہش ہے کہ اس سال عوام کی تمام تمنائیں پوری ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ ایم ایل سی عہدہ سے استعفیٰ دیے چار ماہ گزر چکے ہیں مگر تاحال منظوری نہیں دی گئی، اسی لیے انہوں نے پارلیمانی روایات کے مطابق ایوان میں بولنے کا حق طلب کیا ہے تاکہ عوام کے سامنے حقائق رکھے جا سکیں۔

وزیر اعلیٰ کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ جیسے ہی انہوں نے کے سی آر کو پھانسی دینے سے متعلق بیان سنا، ان کا خون کھول اٹھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو فوری طور پر اپنے لب و لہجے اور رویے میں تبدیلی لانی چاہیے، کیونکہ اس طرح کی زبان کسی جمہوری منصب کے شایانِ شان نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کے سی آر کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے نتیجے میں ہی تلنگانہ ریاست وجود میں آئی اور آج اسی ریاست کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایسے بیانات ناقابلِ قبول ہیں۔

پالمورو–رنگا ریڈی لفٹ ایریگیشن پراجکٹ پر بات کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں اس منصوبے کے ذریعے ایک ایکڑ زمین کو بھی پانی فراہم نہیں کیا گیا اور یہ سو فیصد سچ ہے۔ انہوں نے اس الزام کو مسترد کیا کہ بی آر ایس نے دس برس تک اس منصوبے میں تاخیر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹیک پوائنٹ کیوں بدلا گیا، یہ حقیقت کے سی آر ہی اسمبلی میں آ کر واضح کر سکتے ہیں، محض نام نہاد افراد سے وضاحتیں دلوانے سے سچ سامنے نہیں آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ بعض افراد کی غلط پالیسیوں کے باعث پالمورو–رنگا ریڈی منصوبے کو نقصان پہنچا، پہلا پیکیج متاثر ہوا اور پورا منصوبہ مسائل کا شکار ہو گیا، اس کے باوجود انہیں اہم عہدے دے کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ کلواکنٹلہ کویتا نے واضح کیا کہ اگر کے سی آر اسمبلی میں نہیں آئے تو بی آر ایس کو خدا بھی نہیں بچا سکتا، اور تلنگانہ کے عوام کے مفاد میں تمام حقائق ایوان میں رکھنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پالمورو–رنگا ریڈی کو قانونی مسائل درپیش ہیں تو بھیما، نیٹم پاڈو، سنڈیلا اور کلواکرتی جیسے منصوبوں کی کیا حالت ہے، جہاں نہ مکمل پانی فراہم ہو رہا ہے اور نہ ہی بنیادی مرمت کے لیے فنڈز دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ آندھرا پردیش میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر پانی کے مسائل پر متحد ہو کر کام کیا جا رہا ہے، جبکہ تلنگانہ میں وہ سنجیدگی اور دیانت نظر نہیں آتی۔

آخر میں کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ میڈی گڈہ کو دو برس تک خشک رکھا گیا، جس سے ہزاروں کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی، اور اب مرمت کے نام پر کنٹراکٹ کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کو سختی سے متنبہ کیا کہ وہ اپنا لب و لہجہ تبدیل کریں، کیونکہ کے سی آر کو دہشت گرد سے تشبیہ دینا نہ صرف تحریک بلکہ پوری ریاست تلنگانہ کی توہین کے مترادف ہے۔