ماہ رمضان کے چوتھے جمعہ کا خشوع وخضوع کے ساتھ اہتمام۔ تاریخی مکہ مسجد میں سب سے بڑا اجتماع
دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں ماہ رمضان کے چوتھے جمعہ کا خشوع وخضوع کے ساتھ اہتمام کیا گیا۔ نماز جمعہ کا سب سے بڑا اجتماع تاریخی مکہ مسجد میں منعقد ہوا۔ جہاں ہزاروں فرزندان توحید نے نماز جمعہ ادا کی۔
حیدرآباد (منصف نیوز بیورو) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں ماہ رمضان کے چوتھے جمعہ کا خشوع وخضوع کے ساتھ اہتمام کیا گیا۔ نماز جمعہ کا سب سے بڑا اجتماع تاریخی مکہ مسجد میں منعقد ہوا۔ جہاں ہزاروں فرزندان توحید نے نماز جمعہ ادا کی۔ حافظ وقاری مولانا محمد رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد نے امامت کی۔
نماز سے قبل اپنے خطبہ میں مولانا محترم نے ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر کی اہمیت اور فضیلت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اور فرمایا کہ شب قدر میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نازل کیا ہے اور شب قدر ہزار مہینوں کے برابر ہے۔ شب قدر کی فضیلت اور عظمت یہ ہے کہ اس رات میں عبادتوں کا اجر بڑھ جاتا ہے اور یہ دعاؤں کی قبولیت کی رات ہے۔
حضور اکرم ؐ خصوصی طور پر آخری عشرہ میں شب قدر کا اہتمام کرتے تھے۔ اور دوسروں کو بھی طاق راتوں میں شب قدر کو تلاش کرنے کا حکم دیتے تھے۔ اس رات کا ذکر قرآن میں سورہ الدخان میں کیا گیا ہے۔ پچھلی امتوں میں عبادتیں بھی تھیں اور کتابیں بھی عطا کی گئی تھیں لیکن ایسی فضیلت والی رات کسی نبی کے دور میں عطا نہیں کی گئی جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔
مولانا رضوان قریشی نے کہا کہ ماہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ دوزخ سے نجات کا قرار دیا گیا ہے۔تاہم تیسرے عشرہ میں شب قدر کو اس لئے مخفی رکھا گیا ہے کہ مسلمان اس عشرہ کی 5راتوں میں جاگتے ہوئے شب قدر کو تلاش کریں تاکہ طاق راتوں میں شب قدر کو تلاش کریں اور خصوصی عبادتوں کا اہتمام کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اپنی مغفرت طلب کریں اور اس رات کو تلاش کرنے کے اہتمام کے ساتھ ساتھ اس ماہ مقدس رمضان کو وداع کریں۔
مولانا نے مسلمانوں سے آپس میں اتحادو اتفاق اور بھائی چارہ کو مضبوط رکھنے، نمازوں کی پابندی کرنے، والدین اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی۔ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پر توجہ دیں اور اپنے گھروں میں دینی ماحول بنائے رکھیں اور بچوں کو قرآن و سنت پر چلنے کی ہدایت دیں۔ مولانا نے ملک و ملت اور عالم اسلام کی سربلندی اور آپسی اتحاد کی برقرار ی، فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی باز یابی، مسلم ممالک میں امن و اتحاد کی بحالی کیلئے رقت انگیز دعاکی۔
تاریخی مکہ مسجد کا اندرونی وبیرونی حصہ مصلیوں سے بھر چکا تھا۔ نماز کے بعد مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے جلسہ یوم القرآن کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ صدر مجلس بیر سٹر اسد الدین اویسی ایم پی، و دیگر قائدین وعلماء اکرام نے اپنے خطاب میں قرآن مجید کی تعلیمات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور عامتہ المسلمین کو قرآن وسنت پر عمل پیرا ہونے اور آپسی اتحاد و اتفاق کو مضبوط بنانے کی تلقین کی۔
نماز جمعہ کے پیش نظر محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے وسیع تر انتظامات کئے گئے تھے۔ پولیس کی جانب سے مکہ مسجد اور چارمینار کے اطراف واکناف علاقہ میں سیکوریٹی کا وسیع بندوبست کیاگیا تھا۔
شہر کی دیگر مساجدجامع مسجد چوک، جامع مسجد وزیر علی فتح دروازہ، جامع مسجد افضل گنج، شاہی مسجد باغ عامہ، جامع مسجد ملے پلی، جامع مسجد خیریت آباد، جامع مسجد سکندرآباد، جامع مسجد مشیر آباد، جامع مسجد چلکل گوڑہ، جامع مسجد بوئن پلی، جامع مسجد ملک پیٹ، جامع مسجد عزیزیہ مہدی پٹنم، جامع مسجد عنبر پیٹ، جامع مسجد صحیفہ اعظم پورہ، جامع مسجد چنچل گوڑہ، جامع مسجد چندرائن گٹہ،
جامع مسجد بارکس، جامع مسجد وادی ہدیٰ پہاڑی شریف، کے علاوہ شہر کی تمام مساجد میں ماہ رمضان کے چوتھے جمعہ کا خشوع وخضوع کے ساتھ اہتمام کیا گیا۔ جہاں ہزاروں فرزندان توحید نے نماز ادا کی اور اللہ رب العزت سے عالم اسلام میں امن وامان کی بحالی کیلئے دعا کی۔ مجموعی طور پر ماہ رمضان کے چوتھے جمعہ (جمعہ الوداع) کا پرامن انعقاد عمل میں آیا۔