تلنگانہ

تلنگانہ میں نئی کمپنیوں کے قیام کے لیے حکومت تعاون نہیں کر رہی: دانم ناگیندر

فائر برانڈ کانگریس رکن اسمبلی دانم ناگیندر نے الزام عائد کیا ہے کہ تلنگانہ میں نئی کمپنیوں کے قیام کے خواہاں اداروں کو ریاستی حکومت کی جانب سے مناسب تعاون حاصل نہیں ہورہا ہے، جس کے باعث بعض کمپنیاں ریاست میں سرمایہ کاری کے اپنے منصوبوں پر نظرثانی کر رہی ہیں۔

حیدرآباد: فائر برانڈ کانگریس رکن اسمبلی دانم ناگیندر نے الزام عائد کیا ہے کہ تلنگانہ میں نئی کمپنیوں کے قیام کے خواہاں اداروں کو ریاستی حکومت کی جانب سے مناسب تعاون حاصل نہیں ہورہا ہے، جس کے باعث بعض کمپنیاں ریاست میں سرمایہ کاری کے اپنے منصوبوں پر نظرثانی کر رہی ہیں۔

دانم ناگیندر نے کہا کہ ان کے ایک دوست کی کمپنی، جس کا شمار امریکہ کی Fortune 500 کمپنیوں میں ہوتا ہے، تلنگانہ میں اپنا کاروبار قائم کرنے میں دلچسپی رکھتی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود واشنگٹن ڈی سی میں چیف منسٹر سے کمپنی کے نمائندوں کی ملاقات کا انتظام کرنے کی کوشش کی تھی، تاکہ ریاست میں کمپنی کے قیام اور سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت ہوسکے۔

تاہم، ناگیندر کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے مطلوبہ تعاون اور سہولت کاری فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کم از کم ان کمپنیوں کی مدد کرنی چاہیے جو تلنگانہ میں اپنے کاروبار قائم کرنا چاہتی ہیں۔

کانگریس رکن اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے مناسب تعاون نہ ملنے کے باعث مذکورہ کمپنی اب تلنگانہ سے اپنا منصوبہ واپس لے کر کسی دوسری جگہ منتقل ہونے پر غور کر رہی ہے۔

ناگیندر نے ریاست میں نئی سرمایہ کاری لانے اور بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کو سہولت فراہم کرنے کے حکومتی طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر نئی کمپنیوں کو بنیادی سطح پر بھی تعاون فراہم نہیں کیا جائے گا تو تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے مواقع متاثر ہوسکتے ہیں۔

ان کے بیان کے بعد ریاست میں سرمایہ کاری اور صنعتی سہولت کاری کے معاملہ پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ تاہم، کمپنی کا نام، مجوزہ سرمایہ کاری کی مالیت اور تلنگانہ سے منصوبہ واپس لینے کی مخصوص وجوہات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ریاستی حکومت کی جانب سے دانم ناگیندر کے الزامات پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔