امریکہ و کینیڈا

H-1B ویزا ہولڈرس کو ٹرمپ انتظامیہ کا ایک اور جھٹکا، 60 روزہ گریس پیریڈ ختم کرنے کی تیاری

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے H-1B سمیت بعض نان امیگرنٹ ویزا ہولڈرس کے لیے موجود 60 روزہ گریس پیریڈ ختم کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ یہ گریس پیریڈ ملازمت ختم ہونے کی صورت میں غیر ملکی ورکرس کو نئی ملازمت تلاش کرنے یا امریکہ چھوڑنے کے لیے اضافی وقت فراہم کرتا ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے H-1B سمیت بعض نان امیگرنٹ ویزا ہولڈرس کے لیے موجود 60 روزہ گریس پیریڈ ختم کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ یہ گریس پیریڈ ملازمت ختم ہونے کی صورت میں غیر ملکی ورکرس کو نئی ملازمت تلاش کرنے یا امریکہ چھوڑنے کے لیے اضافی وقت فراہم کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ تبدیلی کو “Eliminating the Discretionary 60-Day Grace Period” کے عنوان سے متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے تحت موجودہ 60 روزہ رعایت کو ختم کیا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں ملازمت سے محروم ہونے والے متعلقہ ویزا ہولڈرس کو نئی ملازمت تلاش کرنے کے لیے موجودہ اضافی مہلت حاصل نہیں ہوگی۔

یہ مجوزہ ضابطہ E-1، E-2، E-3، H-1B، H-1B1، L-1 اور O-1 ویزا ہولڈرس کے علاوہ TN نان امیگرنٹ کیٹیگری کے تحت آنے والے افراد پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومت مجوزہ ضابطے پر عوامی رائے حاصل کرنے کے لیے 60 دن کی مدت فراہم کرے گی، جس کے بعد اسے نافذ کرنے کی سمت میں پیش رفت کی جاسکتی ہے۔

اگر یہ تجویز منظور ہوگئی تو ملازمت سے محرومی کے بعد غیر ملکی ورکرس کے لیے صورتحال مزید سخت ہوسکتی ہے۔ موجودہ ویزا کی مدت باقی ہونے کے باوجود ملازمت ختم ہوتے ہی انہیں امریکہ میں قیام کے لیے دستیاب اضافی وقت سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے اور ملک چھوڑنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 60 روزہ گریس پیریڈ 2016 میں سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ کے دور میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کا مقصد بعض نان امیگرنٹ ورکرس کو ملازمت ختم ہونے کے بعد نئی ملازمت تلاش کرنے یا اپنی امیگریشن صورتحال کو منظم کرنے کے لیے اضافی وقت فراہم کرنا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس سہولت کو ختم کرنے کی مبینہ کوشش سے امریکہ میں کام کرنے والے ہزاروں غیر ملکی پروفیشنلز، بالخصوص H-1B ویزا ہولڈرس، متاثر ہوسکتے ہیں۔

مجوزہ ضابطے کے دائرہ کار، حتمی فیصلے اور عمل درآمد کی تاریخ کے بارے میں مزید تفصیلات عوامی رائے کے مرحلے اور انتظامی کارروائی کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔