حیدرآباد

حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

ہر سال کی طرح بروز منگل جناب راجو بھائی اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ مسجد محمدیہ تعلیم عملہ پور کاروان میں افطاری کے انتظام کے لیے تشریف لائے

حیدرآباد : گزشتہ کئی برسوں سے جناب راجو بھائی، جناب شیوا بھائی اور جناب دیپک بھائی کی معزز فیملی ماہِ رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں روزہ داروں کے لیے نہایت خلوص اور اہتمام کے ساتھ مساجد میں افطاری کا انتظام کرتی آ رہی ہے۔ یہ عمل محض ایک خدمت نہیں بلکہ انسانیت، اخوت اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک عملی اور زندہ تصویر ہے۔

متعلقہ خبریں
اردو زبان ہماری تہذیب و ثقافت کا اہم حصہ،ارشاد العلوم میں اردو سمپوزیم سے ماہرین اردو کےاظہار خیالات
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
کاروان ساہو میں یوم آزادی تقریب، رکن اسمبلی کوثر محی الدین نے ترنگا لہرایا
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد

ہر سال کی طرح بروز منگل جناب راجو بھائی اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ مسجد محمدیہ تعلیم عملہ پور کاروان میں افطاری کے انتظام کے لیے تشریف لائے۔ اس موقع پر انتہائی خوشی اور مسرت کا اظہار اُس وقت ہوا جب مسجد کے مصلیان نے یہ منظر دیکھا کہ یہ غیر مسلم خاندان نہ صرف خود اس نیکی کے کام میں پیش پیش ہے بلکہ اپنے کم سن بچوں کو بھی ساتھ لا کر انہیں خدمتِ خلق، محبت اور بھائی چارے کا درس دے رہا ہے۔ یہ منظر یقیناً ایک مثالی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن پیغام ہے۔

خادمِ مسجد جناب عثمان بن محمد الہاجری کے استفسار پر انہوں نے عقیدت و احترام کے ساتھ بتایا کہ یہ خدمت دراصل ان کے والدین کی ایک بابرکت وصیت ہے، جنہوں نے تاکید فرمائی تھی کہ یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔ چنانچہ وہ اسی وصیت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس نیکی کے کام کو نہایت اخلاص کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ان کا پختہ عزم ہے کہ یہ خدمت آنے والی نسلوں تک بھی منتقل ہوتی رہے گی۔

خادمِ مسجد جناب عثمان بن محمد الہاجری نے اس بے مثال اور قابلِ تقلید جذبے کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل دراصل انسانیت کی اعلیٰ اقدار اور حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کی حقیقی روح کا مظہر ہے۔ انہوں نے اس فیملی کے اخلاص، ایثار اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں ان کی خدمات کو نہایت قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے ان سے بغلگیر ہو کر ان کی شال پوشی کی، اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس پُرخلوص جذبے کو قبول فرمائے، انہیں ہدایت و برکت عطا کرے، اور اس عمل کو ان کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنائے۔

واضح رہے کہ آج کے اس دور میں جب بعض مفاد پرست عناصر ملک کے امن و امان کو متاثر کرنے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، ایسے قابلِ تحسین واقعات ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ محبت، اخوت اور انسانیت ہی وہ اقدار ہیں جو ہمیں ایک دوسرے کے قریب لا سکتی ہیں۔ اگر ہر فرد اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھے تو معاشرہ امن، بھائی چارے اور ہم آہنگی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

بلاشبہ، یہی وہ حقیقی روح ہے جو حیدرآباد کی پہچان ہے — ایک ایسا شہر جہاں دل جڑتے ہیں، نفرتیں مٹتی ہیں اور انسانیت سب سے بلند مقام رکھتی ہے۔