حیدرآباد

دہلی میں انتظامی خدمات پر آرڈیننس، صورتحال ایمرجنسی سے بھی زیادہ بد ترین: کے سی آر

کے سی آر نے کہا کہ مرکزی حکومت دہلی حکومت کو کام کرنے نہیں دے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ مودی کو زرعی قوانین کی طرح اس آرڈیننس سے دستبردار ہونا چاہئے۔

حیدرآباد: قومی دارالحکومت میں انتظامی خدمات پر مرکز کے آرڈیننس کے خلاف حمایت حاصل کرنے کیلئے دہلی کے چیف منسٹر اروند کیجروال نے آج تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندرشیکھرراو سے حیدرآباد میں ملاقات کی۔ان کے ساتھ پنجاب کے چیف منسٹر بھگونت مان بھی موجود تھے۔

متعلقہ خبریں
کجریوال کی کل چیف منسٹر کے سی آر سے ملاقات
توکل انبیاء کرام علیہم السلام کا امتیازی وصف ہے: مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادر
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ: ایک عبقری شخصیت
اشرف المدارس ہائی اسکول یاقوت پورہ میں شاندار سائنس نمائش کا انعقاد
قبائلی و اقلیتی پسماندگی پر توجہ دینے حکومت کی ضرورت: پروفیسر گھنٹا چکراپانی

یہ ملاقات چیف منسٹر کے کیمپ آفس پرگتی بھون میں ہوئی۔بعد ازاں کیجروال اور مان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چندرشیکھرراو نے کہاکہ وزیراعظم مودی کو چاہئے کہ وہ اس آرڈینس سے دستبرداری اختیار کرے۔

یہ صورتحال ایمرجنسی سے بھی زیادہ بدترین ہے۔مرکز کسی بھی عوامی منتخب حکومت کو کام کرنے نہیں دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت دہلی حکومت کو کام کرنے نہیں دے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ مودی کو زرعی قوانین کی طرح اس آرڈیننس سے دستبردار ہونا چاہئے۔

 انہوں نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی آرڈیننس کے خلاف لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں آواز بلند کرے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز اپنی مرضی کے مطابق کام کر رہا ہے۔ دہلی میں بہترین اسکیمیں نافذ کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے عام آدمی پارٹی کو دہلی میں میئر کی سیٹ حاصل کرنے سے روکنے کے لیے بہت سی سازشیں کی۔

ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر دہلی کے میئر کی سیٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیفٹیننٹ گورنر کو دہلی میں لاکر ریاستی حکومت کو پریشان کررہی ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ جمہوری طور پر منتخب ریاستی حکومتوں کو دھمکایا جا رہا ہے اور انہیں کام کرنے نہیں دیا جا رہا ہے۔

 کئی ریاستوں میں، غیر بی جے پی حکومتیں کئی حوالوں سے پیچھے چل رہی ہیں۔ طرح طرح کے حملے کرکے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ مرکز بہت سے غلط کام کر رہا ہے۔ حال ہی میں دہلی میں دو عجیب و غریب واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ عاپ بہت مقبول پارٹی ہے۔

 یہ ملک اور دنیا کو معلوم ہے۔ ایک پارٹی جو کیجریوال کی قیادت میں سماجی تحریک کے ذریعے وجود میں آئی۔اس نے ایک بار نہیں دو بار نہیں بلکہ تین بار شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔اس موقع پر کیجروال نے کہا کہ یہ آرڈیننس سپریم کورٹ کے فیصلہ کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعلی کے طورپر وہ صحت کے سکریٹری کا تبادلہ بھی نہیں کرسکتے۔8سال کی قانونی جدوجہد کے بعد دہلی حکومت کوانصاف ملا تاہم مرکز نے 8دن میں ہی آرڈیننس اس فیصلہ کے خلاف لایا۔دہلی کے وزیراعلی اس آرڈیننس کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل کررہے ہیں تاکہ ایوان بالا میں اس سلسلہ میں بل پیش کرنے پر اس کو شکست دی جاسکے۔