آندھراپردیش

آندھرا پردیش میں ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی۔کسان فصل سڑکوں پر پھینکنے پر مجبور

دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اوراے پی میں مدن پلی کے بعد ٹماٹر کی سب سے زیادہ پیداوار متحدہ ضلع کرنول میں ہوتی ہے جہاں پتی کونڈہ، الور، ادونی، اسپاری، مڈیکیرہ، ڈون، پیاپلی، کوڈومور، گونے گنڈلہ اور ایمی گنور جیسے علاقے ٹماٹر کی کاشت کے لیے مشہور ہیں۔

حیدرآباد: آندھرا پردیش میں ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی نے کسانوں کو تشویش میں مبتلا کردیاہے ۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا
اےپی کے وجیانگرم میں نو بیاہتا جوڑا مشتبہ حالات میں مردہ پایاگیا
آکاش ایجوکیشنل سروسز نے تلگو زبان میں یوٹیوب چینل کا آغاز کر کے امیدواروں کیلئے تعلیمی رسائی بڑھا دی
سمہا چلم اپنا سوامی مندر میں دیوار گرنے کا واقعہ، سافٹ ویر انجینئر جواڑا سمیت 8 افراد ہلاک


شدید محنت کے بعد تیار ہونے والی فصل کی مارکٹ میں گراوٹ کا یہ عالم ہے کہ کسانوں کو فصل کی لاگت تو دور، ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی حاصل نہیں ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے مایوس کسان اپنی فصل سڑکوں پر پھینکنے پر مجبور ہیں۔

دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اوراے پی میں مدن پلی کے بعد ٹماٹر کی سب سے زیادہ پیداوار متحدہ ضلع کرنول میں ہوتی ہے جہاں پتی کونڈہ، الور، ادونی، اسپاری، مڈیکیرہ، ڈون، پیاپلی، کوڈومور، گونے گنڈلہ اور ایمی گنور جیسے علاقے ٹماٹر کی کاشت کے لیے مشہور ہیں۔


کسانوں کے مطابق کھاد، بیج اور مزدوری کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر ٹماٹر کی فی کلو قیمت کم از کم 20 روپے ہونی چاہیے تاکہ وہ کچھ منافع کما سکیں لیکن اس وقت مارکٹ میں قیمت گر کر صرف 5 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

اس صورتحال سے بددل ہو کر کئی کسانوں نے فصل کو کھیتوں میں ہی چھوڑ دیا ہے جبکہ کچھ کسان احتجاجاً ٹماٹر سڑکوں پر پھینک رہے ہیں یا مویشیوں کو کھلا رہے ہیں۔ خریداروں کی عدم موجودگی اور قیمتوں میں کمی کے باعث پتی کونڈہ کی ٹماٹر مارکیٹ ایک ہفتہ قبل ہی بند ہو چکی ہے جس سے کسانوں کے لئے فصل کی فروخت کا راستہ بھی مسدود ہو گیا ہے۔

کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت دیگر فصلوں کی طرح ٹماٹر کے لئے بھی مناسب امدادی قیمت مقرر کرے۔ اگرچہ ماضی میں وزیر زراعت اچن نائیڈو نے حکام کو ہدایت دی تھی کہ قیمتیں گرنے کی صورت میں ٹماٹر کی خریداری 8 روپے فی کلو سے کم پر نہ کی جائے لیکن کسانوں نے کہا کہ ان احکامات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے جس کے باعث حکومت کو فوری مداخلت کر کے کسانوں کو اس معاشی بحران سے نکالنے کی ضرورت ہے۔