حیدرآباد

حیدرآباد اور آندھرا کے درمیان سفر مزید آسان۔ نئی نیشنل ہائی وے کی تعمیر شروع

خاص طور پر اے پی سے حیدرآباد آنے والوں کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ریاستوں کی حکومتیں سرحدی سڑکوں کی توسیع پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔ اسی کے حصہ کے طورپر آندھرا پردیش حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے گنٹور۔حیدرآباد روٹ پر ایک نئی ہائی وے کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے۔

حیدرآباد: آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے درمیان روزانہ ہزاروں افرادتعلیم، ملازمت اور تجارت کی غرض سے سفر کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام

خاص طور پر اے پی سے حیدرآباد آنے والوں کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ریاستوں کی حکومتیں سرحدی سڑکوں کی توسیع پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔ اسی کے حصہ کے طورپر آندھرا پردیش حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے گنٹور۔حیدرآباد روٹ پر ایک نئی ہائی وے کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے۔

مرکزی حکومت کے تعاون سے بننے والی اس شاہراہ کا کام تیزی سے جاری ہے اور اسے اپریل 2027 تک مکمل کرنے کا نشانہ رکھا گیا ہے۔


یہ نئی ہائی وے پری چرلا سے کنڈامورو تک تعمیر کی جا رہی ہے جس کی لمبائی 49.91 کلومیٹر ہوگی۔ اس پراجکٹ پر 881.61 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ اس نیشنل ہائی وے کو 167G کا نمبر الاٹ کیا گیا ہے۔

اس سڑک کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس کی تکمیل کے بعد امراوتی سے حیدرآباد جانے والوں کے لئے سفر کا فاصلہ 40 کلومیٹر کم ہو جائے گا جس سے وقت اور ایندھن دونوں کی بچت ہوگی۔


تعمیراتی منصوبہ کے تحت ستناپلی اور کنڈامورو کے قریب بائی پاس سڑکیں بنائی جائیں گی تاکہ شہر کے اندر ٹریفک کا دباؤ کم ہو۔ اس کے علاوہ راستے میں 11 چھوٹے پل، 4 انڈر پاس، ایک ٹول پلازہ اور ایک ریلوے اوور برج (ROB) بھی تعمیر کیا جائے گا۔

فی الحال پری چرلا۔کنڈامورو روٹ پر سڑک تنگ ہونے کی وجہ سے حادثات کا خطرہ رہتا ہے لیکن اس نئی توسیع سے نہ صرف مسافروں کو سہولت ملے گی بلکہ کپاس، مرچی اور دیگر تجارتی سامان کی نقل و حمل بھی تیز تر ہو جائے گی۔