ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے کے لیے ایلون مسک سے بات کا ارادہ: ٹرمپ
جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے رابطہ کریں گے، جو اسٹارلنک کے نام سے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرتی ہے اور جو ایران میں استعمال ہو چکی ہے، تو ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ایلون مسک ’’اس قسم کے کام میں بہت اچھے ہیں، ان کی ایک بہت اچھی کمپنی ہے۔‘‘
واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے کے لیے ایلون مسک سے بات کریں گے۔
غیر ملکی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے سلسلے میں ارب پتی ایلون مسک کے ساتھ بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے رابطہ کریں گے، جو اسٹارلنک کے نام سے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرتی ہے اور جو ایران میں استعمال ہو چکی ہے، تو ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ایلون مسک ’’اس قسم کے کام میں بہت اچھے ہیں، ان کی ایک بہت اچھی کمپنی ہے۔‘‘
جمعرات سے ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث معلومات کی ترسیل شدید متاثر ہے، جب کہ یہ مظاہرے 2022 کے بعد ملک کی مذہبی قیادت کے خلاف سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے سمجھے جارہے ہیں۔
خیال رہے کہ مسک اور ٹرمپ کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، ارب پتی مسک نے ٹرمپ کی کامیاب صدارتی انتخابی مہم کے لیے مالی معاونت کی اور بعد ازاں وفاقی حکومت میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کی منصوبہ بندی میں کردار ادا کیا، تاہم گزشتہ سال دونوں کے درمیان عوامی سطح پر اختلافات سامنے آئے، اور مسک نے ٹرمپ کے اہم ٹیکس بل کی مخالفت کی۔
اب ایسا لگتا ہے کہ مسک نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنے تعلقات دوبارہ بحال کر لیے ہیں۔ اس ماہ مسک اور ٹرمپ کو ٹرمپ کے مار اے لاگو ریزورٹ میں ایک ساتھ کھانا کھاتے دیکھا گیا، جب کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ پیر کے روز ٹیکساس میں اسپیس ایکس کی ایک تنصیب کا دورہ کرنے والے ہیں۔
مسک نے ایرانیوں کو حکومتی پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے کے لیے اسٹارلنک فراہم کرنے کی حمایت کی ہے، 2022 کے مظاہروں کے دوران بائیڈن انتظامیہ نے بھی مسک سے رابطہ کیا تھا تاکہ ایران میں اسٹارلنک قائم کیا جا سکے، جب 22 سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
اسٹارلنک سیٹلائٹ سروس دیگر شورش یا تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں بھی استعمال ہو چکی ہے، جیسے یوکرین، جہاں 2022 میں مسک نے یوکرین کی ایک اہم فوجی کارروائی کے دوران اسٹارلنک سروس بند کرنے کا حکم دیا تھا۔