امریکہ و کینیڈا

ٹرمپ آبنائے ہرمز کے تحفظ میں مدد چاہتے ہیں

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، جو انہوں نے صدارتی طیارے ایئر فورس ون میں سفر کے دوران کی، ٹرمپ نے کہا کہ کئی حکومتوں سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ اس تنگ مگر انتہائی اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے سات ممالک سے بات چیت کر رہا ہے اور خلیجی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم سمندری راستے میں جہاز رانی کے تحفظ میں مدد کریں۔

متعلقہ خبریں
ٹرمپ کی ریلی میں پھر سکیورٹی کی ناکامی، مشتبہ شخص میڈیا گیلری میں گھس گیا (ویڈیو)
ڈونالڈ ٹرمپ کا طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا
کملاہیرس اور ٹرمپ میں کانٹے کی ٹکر متوقع
ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی
پارٹی رہنماؤں کی بڑھتی مخالفت: جو بائیڈن کی بطور دوبارہ صدارتی امیدوار نامزدگی ملتوی


صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، جو انہوں نے صدارتی طیارے ایئر فورس ون میں سفر کے دوران کی، ٹرمپ نے کہا کہ کئی حکومتوں سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ اس تنگ مگر انتہائی اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔

ماہرین کے مطابق فرانس اور برطانیہ بھی ان ممالک میں شامل ہو سکتے ہیں جن سے تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔


ٹرمپ نے کہا، “میں ان ممالک سے مطالبہ کر رہا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور اپنے علاقے کے تحفظ میں کردار ادا کریں، کیونکہ یہ دراصل انہی کا علاقہ ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس خطے سے توانائی حاصل ہوتی ہے، اس لیے انہیں اس کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔


امریکی صدر نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ جن ممالک سے رابطہ کیا گیا ہے ان میں سے کئی اس آبنائے میں بحری جہاز تعینات کریں گے تاکہ جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنائی جا سکے۔ یہ ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔


ٹرمپ نے اس موقع پر آپریشن ایپک فیوری کا بھی ذکر کیا اور اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی صورتحال ابھی غیر یقینی ہے۔


انہوں نے کہا، “وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور انہیں کرنا بھی چاہیے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ ابھی وہ اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں جو ضروری ہیں۔ ہم اپنا کام مکمل کریں گے۔”


ایک طرف امریکہ اور اسرائیل اور دوسری طرف ایران کے درمیان جنگ فروری کے آخر میں شروع ہونے کے بعد سے تیزی سے بڑھ گئی ہے۔ اس تنازعے کے باعث تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ایران پر الزام ہے کہ وہ ڈرونز، بارودی سرنگوں اور دیگر طریقوں سے اس راستے سے گزرنے والی تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔