بین الاقوامی

اقوام متحدہ عنقریب مالیاتی بحران سے دوچار ہوگی: گوتیرس

امریکہ نے حال ہی میں اقوام متحدہ کو ادائیگیوں سے انکار کیا تھا تقریباً 1.5 بلین ڈالر کے بقایا ہیں

اقوام متحدہ  : سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ عنقریب مالیاتی بحران سے دوچار ہوگی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکریٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک کو خط لکھ کر آنے والے مالیاتی بحران سے آگاہ کرتے ہوئے انتونیوگوتریس نے واجب الادا رقوم کی ادائیگیوں پر زور دیا ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ رکن ممالک کی جانب سے واجب الادا رقوم کی عدم ادائیگیوں کا سامنا ہے جس کے باعث یو این پروگرامز جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدم ادائیگیوں کی صورت میں اقوام متحدہ کے پاس جولائی تک فنڈز ختم ہو جائیں گے اقوام متحدہ کے مالیاتی قوانین کو مکمل طور پر نئے سرے سے ترتیب دینا ہو گا۔

امریکہ نے حال ہی میں اقوام متحدہ کو ادائیگیوں سے انکار کیا تھا کیونکہ امریکہ اقوام متحدہ کی 31 ایجنسیوں سے دستبرداری اختیار کرچکا ہے۔

کیش فلو آئندہ جولائی تک رہے گا۔ تقریباً 1.5 بلین ڈالر کے بقایا وعدے ہیں۔ممالک وہ رقم ادا نہیں کر رہے ہیں جو انہوں نے منتقل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ان معاملات کے پس منظر میں اقوام متحدہ کے بہت سے اداروں سے امریکہ کا انخلا اور ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے فروغ دی جانے والی فنڈنگ ​​کو روکنا ہے (امریکہ اقوام متحدہ کے بنیادی بجٹ کے 22 فیصد کا ذمہ دار ہے)