بین الاقوامی

جنوبی سوڈان میں نامعلوم حملہ آوروں نے 169 افراد کو ہلاک کردیا

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق روینگ کے انتظامی علاقے کے وزیر اطلاعات جیمز مونیلوک میجوک نے کہا کہ یہ حملہ اتوار کو مسلح نوجوانوں نے کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وہ ہمسایہ یونٹی اسٹیٹ سے آئے تھے اور سوڈان پیپلز لبریشن آرمی-10 (ایس پی ایل-IO) سے جڑے تھے۔

خرطوم: جنوبی سوڈان میں نامعلوم افراد کے ایک گروپ کے حملے میں سینئر حکام سمیت کم از کم 169 افراد ہلاک ہو گئے۔


بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق روینگ کے انتظامی علاقے کے وزیر اطلاعات جیمز مونیلوک میجوک نے کہا کہ یہ حملہ اتوار کو مسلح نوجوانوں نے کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وہ ہمسایہ یونٹی اسٹیٹ سے آئے تھے اور سوڈان پیپلز لبریشن آرمی-10 (ایس پی ایل-IO) سے جڑے تھے۔


رپورٹ کے مطابق، ایس پی ایل-IO نے حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور یونٹی اسٹیٹ حکام پر تشدد کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے بارہا خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کا خطرے منڈرا رہا ہے۔


مسٹر میزوک نے کہا، "ہلاک ہونے والوں میں 90 بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہیں۔ نیز حملے میں پولیس سمیت علاقائی فورسز کے 79 ارکان بھی مارے گئے۔” ان کا کہنا تھا کہ حملے میں 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے زیادہ تر کو علاج کے لیے ہمسایہ ابیئی انتظامی علاقے لے جایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔


مسٹر میزوک نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور اتوار کو علی الصبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے کے قریب رووینگ میں ابیمنوم کاؤنٹی میں داخل ہوئے اور حملہ کردیا۔ اس وقت لوگ سو رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت وہاں سرکاری فوجیوں کی موجودگی بہت کم تھی۔ تین سے چار گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی کے دوران حملہ آوروں نے گھروں اور بازاروں کو آگ لگا دی۔ علاقے کے کمشنر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت کئی سینئر مقامی اہلکار ہلاک ہو گئے۔


مسٹر میجوک نے کہا کہ سرکاری فورسز نے حملہ آوروں کو پسپا کر دیا ہے اور صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ یونٹی سٹیٹ کے اہلکاروں کو روئینگ کو نشانہ بنانے کے بارے میں منصوبے سے آگاہ ہونا ہوگا۔ دریں اثنا، یونٹی اسٹیٹ کے حکام نے کہا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اس حملے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔


اقوام متحدہ کے مشن نے کہا کہ تقریباً 1000 شہریوں نے متاثرہ علاقے میں اس کے اڈے کے قریب تحفظ کی تلاش شروع کردی ہے۔ مشن نے کہا کہ وہ پچھلے 48 گھنٹوں کے دوران علاقے میں تشدد میں اضافے سے پریشان ہے۔

مشن کی انچارج انیتا کیکی گبیہو نے کہا، "اس طرح کا تشدد عام شہریوں کو شدید خطرے میں ڈالتا ہے اور اسے فوری طور پر روکنا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا، "مشن نے اپنی سکیورٹی میں اضافہ کردیا ہے اور وہ جنوبی سوڈان کی حکومت کے ساتھ مل کر امن کی بحالی اور متاثرہ کمیونٹیز کے تحفظ کی کوششوں میں تعاون کر رہا ہے۔” امن دستے جھڑپوں میں زخمی ہونے والے کم از کم 23 افراد کو ہنگامی طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔