آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ پیدا کر رہا ہے امریکہ: عراقچی
مسٹرعراقچی نے یہاں بات چیت کے لیے آئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا، "امریکہ اور صیہونی حکومت (اسرائیل) کی طرف سے مسلط کردہ جنگ اور ساتھ ہی اقتصادی ناکہ بندی ہمارے خطے میں عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات ہیں۔"
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر تنازع کے مرکز بنے آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے۔
مسٹرعراقچی نے یہاں بات چیت کے لیے آئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا، "امریکہ اور صیہونی حکومت (اسرائیل) کی طرف سے مسلط کردہ جنگ اور ساتھ ہی اقتصادی ناکہ بندی ہمارے خطے میں عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات ہیں۔”
مسٹر لاوروف کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات طے تھی۔ اس دوران دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیے جانے کی امید تھی کیونکہ ایسی تشویش پائی جاتی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
ایران کی نیم فوجی دستے، اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کوئی نئی فوجی کارروائی کرتا ہے، تو اسے اور بھی سخت جواب دیا جائے گا۔
آئی آر جی سی کے ترجمان حسین موہیبی نے کہا، "امریکہ نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا تھا اور اب وہ ایسی حالت میں نہیں ہے کہ کوئی نیا تنازع شروع کرے جس سے اسے کوئی نیا فائدہ مل سکے۔” مسٹرموہیبی نے دعویٰ کیا کہ اس خطے میں امریکہ کے زیادہ تر فوجی اڈے غیر فعال ہیں اور امریکی فوجیں ایران سے سینکڑوں کلومیٹر دور چلی گئی ہیں۔
آئی آر جی سی سے وابستہ ‘فارس’ خبر رساں ایجنسی کے مطابق آئی آر جی سی کے ڈپٹی کمانڈر مصطفیٰ ایزدی نے الگ سے دعویٰ کیا کہ ایرانی میزائلوں سے بچنے کے لیے امریکی بحریہ تقریباً 700 کلومیٹر دور چلی گئی ہے۔
آئی آر جی سی کے سینئر مشیر محمدرضا نقدی نے بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل تنصیبات شدید بمباری کے باوجود محفوظ بچی ہوئی ہیں اور ان کے اسٹریٹجک ذخائر بھی پوری طرح سلامت ہیں۔