ایم آئی ایم۔ ہمایوں کبیر اتحاد پر اپوزیشن کی کڑی تنقید، ’سیکولر ووٹ تقسیم‘ کا الزام
کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے اعلان کیاہے کہ ان کی پارٹی مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے سابق قائد ہمایوں کبیر کی نئی تشکیل شدہ عام جنتا اُنیان پارٹی(اے جے یوپی) کے ساتھ اتحاد کرکے مقابلہ کرے گی۔
نئی دہلی (آئی اے این ایس) کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے اعلان کیاہے کہ ان کی پارٹی مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے سابق قائد ہمایوں کبیر کی نئی تشکیل شدہ عام جنتا اُنیان پارٹی(اے جے یوپی) کے ساتھ اتحاد کرکے مقابلہ کرے گی۔
کانگریس نے اسدالدین اویسی کے اس طرح کے اعلان پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ نے اپنا نقاب ہٹادیاہے اور حقیقی موقف کو واضح کردیاہے۔
کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے مجلس کے صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ خود کو سیکولرازم کا علمبردار کہاکرتے تھے لیکن اب ہمایوں کبیر کی نئی تشکیل شدہ جماعت سے اتحاد کرکے مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کرنے کا جو اعلان کیاہے اس سے آپ کا حقیقی فرقہ پرست چہرہ دنیا میں بے نقاب ہوچکاہے۔
اس سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ مجلس کے قائد بی جے پی کے حقیقی دوست ہیں۔پارٹی نے مزید الزام عائد کیاہے کہ اویسی نے بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کا اظہار کردیا ہے جس سے اس بات کا اظہار ہوتاہے کہ وہ بی جے پی سے قریبی تعلقات رکھنے کے خواہاں ہیں۔ خبر رساں ادارہ آئی اے این ایس کے نمائندہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سریندر راجپوت نے مجلس اور اے جے یوپی اتحاد پر شدید تنقید کی اور اسدالدین اویسی سے شکریہ ادا کیاہے کہ آپ نے اپنے چہرے سے ماسک ہٹالیا ہے اور اب دنیا میں اپنا موقف ظاہر کرچکے ہیں۔
راجپوت نے کہاکہ اسدالدین اویسی خود کو سیکولرازم علمبردار کہاکرتے تھے لیکن اب انہوں نے ہمایو ں کبیر کی جماعت سے اتحاد کرکے خود کو بے نقاب کردیاہے۔ اس سے اس بات کا اظہار ہوتاہے کہ دونوں جماعتوں میں ساز باز ہوچکاہے اوراس مقصد کے لیے دہلی سے فنڈس حاصل کئے جارہے ہیں۔ مغربی بنگال میں دونوں جماعتوں کے موقف سے عوام واقف ہوتے جارہے ہیں۔
اس کے علاوہ حیدرآباد میں ہوئے انتخابات کے دوران بھی مجلس کے رویہ سے عوام واقف ہیں۔ کانگریس کے ایم پی سکھدیو بھگت نے بھی مغربی بنگال کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہاں سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ بھارتیہ جنتاپارٹی کی کامیابی کی را ہ ہموار ہوسکے ۔
اس کے لیے اویسی مشہور ہیں۔ انہوں نے سابق میں بھی ووٹوں کو تقسیم کروایا ہے اور اب بھی اپنی اس حکمت عملی پر عمل آوری کے خواہاں ہیں۔ جے ایم ایم کے ترجمان منوج پانڈے نے بھی اس طرح کے تاثرات اور احساسات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ان کا یہ احساس ہے کہ اب اسدالدین اویسی کو ایک یا دو ریاستوں میں کامیابی حاصل ہوچکی ہے۔ لیکن مغربی بنگال میں وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے اپنے رویہ سے بی جے پی کو مستحکم کیا ہے اور سیکولر جماعتوں کو کمزور کیاجارہاہے۔ جے ڈی (یو) کے قومی ترجمان راجیو رنجن نے بھی سیاسی تبدیلی پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمایوں کبیر یا اسدالدین اویسی حقیقت میں ممتابنرجی کی جانب سے پھیلائی جانے والی فرقہ پرستی کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ مغربی بنگال کی سیاست میں ممتابنرجی نے فرقہ پرستی اور نفرت کے بیچ بوئے ہیں اور اب یہ رجحانات فروغ پارہے ہیں۔
اس دوران بہار کے وزیررام کرپال یادو نے کہاہے کہ اسدالدین اویسی اپنی جماعت کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں تاکہ اپنے مقاصد کی تکمیل کی جاسکے۔ انتخابات میں حصہ لینے کامقصد بھی یہی ہے کہ پارٹی کو وسعت دی جائے۔294 رکنی مغربی بنگال اسمبلی کے لیے راے دہی دو مراحل میں ہوگی۔ 23 اپریل کو پہلا مرحلہ ہوگا جبکہ 29 اپریل کو دوسرے مرحلے میں انتخابات ہوں گے جبکہ 4مئی کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔ مجلس اور اے جے یو پی کے تعلق سے توقع ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں یہ اتحاد اثر انداز ہوگا۔