ویڈیو: 4 بیویاں، 58 بچے اور غربت کی مار، افغانستان کے محمد صادق کی دردناک کہانی
افغانستان میں غربت کے باعث ایک بڑا خاندان شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ چار بیویوں اور 58 بچوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے محمد صادق کی پریشانیوں پر بی بی سی نے ایک رپورٹ نشر کی ہے۔
کابل: افغانستان میں غربت کے باعث ایک بڑا خاندان شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ چار بیویوں اور 58 بچوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے محمد صادق کی پریشانیوں پر بی بی سی نے ایک رپورٹ نشر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صادق کے لیے اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی، کپڑے اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس خاندان کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد صارفین نے بچوں کی حالت پر تشویش ظاہر کی ہے اور کم عمری کی شادیوں جیسے سنگین مسائل پر سوالات اٹھائے ہیں۔
محمد صادق نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی بیویوں اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر اسے پہلے اندازہ ہوتا کہ اتنے بچوں کی پرورش کرنا کس قدر مشکل ہوگا تو وہ اتنے بڑے خاندان کا باپ نہ بنتا۔ تاہم، شدید مالی مشکلات کے باوجود بچوں کی پیدائش کا سلسلہ جاری رکھنے کے سوال پر وہ کوئی واضح جواب نہیں دے سکا۔
محمد صادق کے مطابق اس کی چاروں بیویوں کی شادیاں کم عمری میں ہوئی تھیں۔ اس نے بتایا کہ اس کے بعض بچوں کی موت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کی ماؤں کو شیر خوار بچوں کی دیکھ بھال اور انہیں دودھ پلانے کے طریقوں کے بارے میں مناسب معلومات حاصل نہیں تھیں۔
کم عمری میں حمل، زچگی کے بعد مناسب دیکھ بھال کی کمی اور طبی سہولتوں کی عدم دستیابی نے ماں اور بچوں کی صحت کو متاثر کیا۔ افغانستان کے ان علاقوں میں یہ مسائل مزید سنگین ہو جاتے ہیں جہاں صحت کی بنیادی سہولتیں بھی آسانی سے دستیاب نہیں ہیں۔
محمد صادق کے خاندان کی معاشی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بچے بعض اوقات بھوکے پیٹ سونے پر مجبور ہیں۔ صادق کا کہنا ہے کہ اس کے پاس بچوں کے لیے چپل خریدنے تک کے پیسے نہیں ہیں۔
اس کا خاندان ایک ایسے مٹی کے مکان میں رہتا ہے جہاں دروازے اور کھڑکیاں بھی موجود نہیں ہیں۔ گھر کے اندر مختلف حصوں کو الگ کرنے کے لیے باریک پردے لگائے گئے ہیں۔ کھانا پکانے کے لیے چولہا تو ہے، لیکن ایندھن اور لکڑیاں خریدنے کی استطاعت نہیں۔ ایسے میں کاغذ جلا کر آگ روشن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بنیادی سہولتوں سے محروم اس گھر میں 58 بچوں اور چار بیویوں کی ضروریات پوری کرنا صادق کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
محمد صادق ایک کاروں کے سیلز سینٹر میں کام کرتا ہے۔ اسے ہر گاڑی فروخت کرنے پر ایک ہزار افغانی ملتے ہیں، جو بھارتی کرنسی میں تقریباً 1,469 روپے بنتے ہیں۔
یہی معمولی آمدنی اس کے اتنے بڑے خاندان کا سہارا ہے۔ چونکہ اسے گاڑی فروخت ہونے پر ہی کمیشن ملتا ہے، اس لیے آمدنی مستقل نہیں رہتی۔ کھانے پینے کی اشیا، کپڑے اور دیگر ضروریات پوری کرنا اس کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے سب سے چھوٹے بچے کی عمر محض تین ماہ ہے۔
بی بی سی گلوبل ویمن نے محمد صادق کے خاندان سے متعلق ویڈیو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے مختلف ردعمل ظاہر کیے۔
صارفین نے بچوں کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھنے، لڑکیوں کی کم عمری میں شادی اور نوعمری میں ماں بننے کے سنگین نتائج پر تشویش ظاہر کی۔ ایک صارف نے سوال کیا کہ ایک ہی ویڈیو میں انسانی حقوق کی اتنی خلاف ورزیاں کیسے نظر آ سکتی ہیں۔
ایک اور صارف نے کم عمری میں ماؤں بننے والی لڑکیوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوچ کر بھی تکلیف ہوتی ہے کہ حمل کے وقت وہ کتنی کم عمر رہی ہوں گی اور انہیں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے کتنی محدود مدد حاصل رہی ہوگی۔
محمد صادق کے خاندان کی حالت افغانستان میں غربت، کم عمری کی شادیوں، خواتین کی تعلیم میں رکاوٹوں اور صحت کی ناکافی سہولتوں جیسے مسائل کی سنگینی کو نمایاں کرتی ہے۔ طالبان کے اقتدار کے بعد خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم اور سماجی زندگی پر عائد پابندیاں بھی بین الاقوامی سطح پر مسلسل تشویش کا موضوع رہی ہیں۔
ایسے حالات میں خواتین اور بچوں کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ محمد صادق کے خاندان کی کہانی ایک ایسے بحران کی تصویر پیش کرتی ہے جس میں غربت کے ساتھ کم عمری کی شادی، ماں اور بچے کی صحت اور بچوں کی بنیادی ضروریات جیسے کئی مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔