بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع
اس انتخاب میں تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز آج اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ سال 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف جولائی۔اگست میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد یہ پہلا عام انتخاب ہے۔
ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ جمعرات کی صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوگئی۔ پولنگ شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہے گی اور اس کے فوراً بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوجائے گا۔
اس انتخاب میں تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز آج اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ سال 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف جولائی۔اگست میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد یہ پہلا عام انتخاب ہے۔
اس وقت بنگلہ دیش میں چیف ایڈوائزر محمد یونس کی قیادت میں ایک عبوری حکومت قائم ہے۔ عبوری حکومت نے گزشتہ سال شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو تحلیل کر دیا تھا اور اسے انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔
بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے طارق رحمان بھی انتخابی میدان میں ہیں، جن کا اہم مقابلہ جماعتِ اسلامی سے بتایا جا رہا ہے۔
انتخابات میں کل 51 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سکیورٹی کے لیے تقریباً 10 لاکھ اہلکار تعینات کیے ہیں، جو ملک کی انتخابی تاریخ کا سب سے بڑا سکیورٹی آپریشن ہے۔ آدھے سے زیادہ پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، جن میں سے تقریباً 90 فیصد سی سی ٹی وی نگرانی میں ہیں، جبکہ ڈھاکہ میں کئی پولیس افسران انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے باڈی کیمرے استعمال کر رہے ہیں۔
الیکشن کمشنر ابوالفضل محمد ثناءاللہ نے ایک بریفنگ میں کہا کہ “مقامی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ آج شام ساڑھے چار بجے پولنگ ختم ہوتے ہی ووٹوں کی گنتی شروع ہو جائے گی اور سرکاری نتائج 13 فروری کو متوقع ہیں۔
انتخابی میدان میں موجود 1,981 امیدواروں میں سے 249 آزاد امیدوار ہیں۔ تقریباً 46 لاکھ ووٹر پہلی بار اپنے حق رائے دیہی کا استعمال کریں گے، جن میں سےتقریباً نصف کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان ہے۔