تلنگانہ

بھارت بند کا تلنگانہ میں بھی اثر۔عام زندگی متاثر

ڈرائیوروں نے بسوں، کاروں اور آٹو رکشوں کو جگہ جگہ روک کر احتجاج کیا جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا اور کئی مقامات پر لوگ پیدل اپنی منزلوں کی جانب جانے پر مجبور ہیں۔

حیدرآباد: مرکزی حکومت کی مزدور اور کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف ٹریڈ یونینوں اور کسان تنظیموں کے مشترکہ فورم کے بھارت بند کا اثرتلنگانہ میں بھی دیکھاگیا جہاں عام زندگی متاثررہی۔

ریاست میں اس ہڑتال کے نتیجہ میں سرکاری و نجی دفاتر اور تعلیمی اداروں میں کام کاج ٹھپ رہا۔

متعلقہ خبریں
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات

ڈرائیوروں نے بسوں، کاروں اور آٹو رکشوں کو جگہ جگہ روک کر احتجاج کیا جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا اور کئی مقامات پر لوگ پیدل اپنی منزلوں کی جانب جانے پر مجبور ہیں۔

سنگارینی کالریز میں کنٹریکٹ مزدوروں نے رضاکارانہ طور پر کام بند کر دیا جس سے کان کنی کی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔ واضح رہے کہ کسان اور مزدور تنظیموں نے مودی حکومت کی مبینہ موافق کارپوریٹ اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف 12 فروری کو اس ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس کے اثرات بینکنگ، انشورنس اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔