حیدرآباد

وقف ترمیمی بل 2024: مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے صدر کا حیدرآباد دورہ عنقریب، دانشوران قوم سے تجاویز پیش کرنے کی اپیل

مرکزی حکومت نے بی جے پی کے رکن پارلیمان جگدمبیکا پال کی سربراہی میں ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں لوک سبھا کے 21 اور راجیہ سبھا کے 10 ارکان شامل ہیں۔

حیدرآباد: وقف ترمیمی بل 2024 کے مسودے کے خلاف مختلف حلقوں، خصوصاً مسلمانوں کی جانب سے شدید مخالفت کے پیش نظر، مرکزی حکومت نے بی جے پی کے رکن پارلیمان جگدمبیکا پال کی سربراہی میں ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں لوک سبھا کے 21 اور راجیہ سبھا کے 10 ارکان شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں
نمائش سوسائٹی تعلیم و ثقافت کے فروغ میں سرگرم، عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
وقف ترمیمی بل، مرکزی حکومت کے ارادے نیک نہیں ہیں: جعفر پاشاہ
اندرامّا مہیلا شکتی اسکیم کے تحت اقلیتی خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان

کمیٹی نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ جو افراد مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو تجاویز پیش کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنی یادداشت پارلیمنٹ ہاؤس، نئی دہلی کو روانہ کریں۔

اس عمل کو مزید سہولت بخش بنانے کے لیے، تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے مستقل مدعو رکن عتیق صدیقی خرم نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے صدر جگدمبیکا پال سے ملاقات کی اور انہیں حیدرآباد آنے کی دعوت دی تاکہ کمیٹی براہ راست تجاویز اور یادداشتیں وصول کرسکے۔

جگدمبیکا پال نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ جلد ہی حیدرآباد پہنچ کر درخواستیں، تجاویز اور یادداشتیں وصول کریں گے۔ عتیق صدیقی خرم نے ملت کے دانشوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔