شمالی بھارت

شہنشاہ اکبر‘ کبھی بھی اکبراعظم نہیں ہوسکتا، سوریہ نمسکار پر مسلمانوں کو کوئی اعتراض نہیں:مدن دلاور

راجستھان کے وزیر تعلیم مدن دلاور نے کہا کہ مغل شہنشاہ اکبر کو اعظم یا مہان کبھی بھی نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ وہ حملہ آور کے طورپر ہندوستان آیا تھا اور اس نے کئی عورتوں کی عزت لوٹی تھی۔

جئے پور: راجستھان کے وزیر تعلیم نے اسکولی نصاب کا ازسرنو جائزہ لینے کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ پتہ چلایا جائے کہ آیا طلبا کو حقائق پڑھائے جارہے ہیں یا کچھ اور۔

متعلقہ خبریں
تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں: وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی
’کرشنا جنم بھومی ہندوؤں کے حوالے کردی جائے، ورنہ قانون اپنا کام کرے گا‘
کینڈا میں مسلمانوں کیلئے حلال رہن کیلئے قانون سازی
پارلیمنٹ سیکیوریٹی میں نقائص، راجستھان کے ناگور سے موبائل فونس کے ٹکڑے برآمد
سرکاری اسکولوں میں 15 فروری کو سوریہ نمسکار

آئی اے این ایس کو خصوصی انٹرویو میں ریاستی وزیر تعلیم مدن دلاور نے کہا کہ مغل شہنشاہ اکبر کو اعظم یا مہان کبھی بھی نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ وہ حملہ آور کے طورپر ہندوستان آیا تھا اور اس نے کئی عورتوں کی عزت لوٹی تھی۔

 انہوں نے کہا کہ ہم نے کمیٹی بنانے کا حکم دیا ہے جو جائزہ لے گی کہ طلبا کو کیا پڑھایا جارہا ہے۔ نصاب میں انہیں درست جانکاری مل رہی ہے یا نہیں۔ حقائق درست نہ ہوں تو ہم طئے کریں گے کہ انہیں ٹھیک کیسے کرنا ہے۔ ہمارے طلبا کو ابھی بھی اکبر دی گریٹ پڑھایا جارہا ہے تاہم وہ حملہ آور تھا جس نے عورتوں کی عزت لوٹی اور مینا بازار سجائے۔

 ایک حملہ آور اور عزت لوٹنے والا کبھی بھی مہمان نہیں ہوسکتا۔ ہم اسکولوں میں پڑھائے جانے والے حقائق کی جانچ کررہے ہیں۔ اس نشاندہی پر کہ ملک بھر میں دیگر اسکول تو اکبر دی گریٹ پڑھاتے رہیں گے‘ مدن دلاور نے کہا کہ میرا دائرہ اختیار راجستھان تک محدود ہے تاہم کمیٹی رپورٹ آجائے تو ہم دیگر ریاستوں کو بھی اگر وہ مانگیں تو یہ رپورٹ بھیجیں گے۔

 سوریہ نمسکار تنازعہ اور معاملہ عدالت جانے پر ریاستی وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم نے سوریہ سپتامی پر ریاست بھر کے اسکولوں میں سوریہ نمسکار کا عالمی ریکارڈ بنایا۔ اس کی کامیابی دیکھتے ہوئے اب سارے اسکولوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ صبح اسمبلی سیشن میں یوگا کا اہتمام کریں۔

 انہوں نے کہاکہ 50 فیصددینی مدرسے بھی سوریہ نمسکار کرتے ہیں۔ ان کے بقول مسلم فرقہ کو تک اس پر اعتراض نہیں۔ کوٹا میں تبدیلی ئ مذہب کے الزام میں چند اساتذہ کی معطلی پر مدن دلاور نے کہا کہ کوٹا کے ایک اسکول سے ہمیں شکایت ملی تھی کہ وہاں طلبا کو نماز پڑھنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ان ٹیچرس نے ایک لڑکی کے ذات کے کالم میں اسلام لکھ دیا حالانکہ وہ لڑکی ہندو ہے۔

 یہ قابل ِ قبول نہیں‘ لہٰذا ہم نے ٹیچرس کو معطل کردیا۔ اسکول کے اوقات میں کوئی بھی ٹیچر نماز ادا کرنے نہیں جائے گا۔ اسی طرح کوئی ٹیچر مندر نہیں جائے گا۔ غیرقانونی مدرسے فوری بند ہونے چاہئیں۔ اسکول کے احاطہ میں کوئی بھی ٹیچر سگریٹ/ بیڑی نہیں پیئے گا۔ حجاب کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ ہم نے اس پر کبھی بھی اعتراض نہیں کیا۔ ہم نے واضح ہدایت دی ہے کہ سارے طلبا یونیفارم میں اسکول آئیں۔