حیدرآباد میں 2027 کی گرمیوں کے لیے ابھی سے پانی کی ہنگامی منصوبہ بندی شروع
2027 کی گرمیوں میں پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ نے ابھی سے ہنگامی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ خاص طور پر سنگور۔منجیرہ نظام پر منحصر علاقوں میں متبادل آبی ذرائع کی نشاندہی اور پانی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
حیدرآباد: 2027 کی گرمیوں میں پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ نے ابھی سے ہنگامی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ خاص طور پر سنگور۔منجیرہ نظام پر منحصر علاقوں میں متبادل آبی ذرائع کی نشاندہی اور پانی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
واٹر بورڈ نے شہر میں موجود نجی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (STPs) کی تفصیلات جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ ان پلانٹس میں صاف کیے گئے پانی کو غیر پینے کے مقاصد، خصوصاً صنعتی اور دیگر ضروری استعمال کے لیے بروئے کار لایا جاسکے۔
حکام کی جانب سے پانی کے غیر ضروری ضیاع اور پینے کے پانی کو گھریلو استعمال کے بجائے دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے واقعات کی بھی نشاندہی کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے فیلڈ ٹیمیں مختلف علاقوں کا دورہ کرکے زمینی صورتحال کا جائزہ لیں گی۔
واٹر بورڈ نے ابتدا میں عوام میں شعور بیدار کرنے پر توجہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم، بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف موجودہ قوانین کے تحت کارروائی بھی کی جائے گی۔
پانی کے محتاط اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے میڈیا، سوشل میڈیا اور زمینی سطح پر مختلف پروگراموں کے ذریعے وسیع پیمانے پر بیداری مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مہم میں عوامی نمائندوں کو بھی شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اس کے علاوہ صنعتی اور بڑے صارفین کو فراہم کیے جانے والے پانی کی موجودہ مقدار، سربراہی کے طریقہ کار اور ان کے زیر استعمال آبی ذرائع کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ حکام اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ اگر سنگور۔منجیرہ نظام کے لیے ہنگامی متبادل منصوبہ نافذ کیا جاتا ہے تو صنعتی اور بڑے صارفین کی پانی کی فراہمی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
واٹر بورڈ کے افسر اشوک ریڈی نے واضح کیا کہ گرمیوں کی تیاری محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ تمام منصوبے زمینی سطح پر عملی طور پر نافذ کیے جانے کے قابل ہونے چاہئیں۔
انہوں نے ہدایت دی کہ ہر تجویز میں موجودہ صورتحال، مسئلے کی نشاندہی، مجوزہ حل، درکار کام، متوقع اخراجات، تکمیل کی آخری تاریخ اور ذمہ دار افسر کی تفصیلات واضح طور پر درج کی جائیں۔
چیف جنرل منیجرز، جنرل منیجرز اور ڈپٹی جنرل منیجرز کو اپنے اپنے علاقوں کا زمینی سطح پر جائزہ لینے اور علاقے کے لحاظ سے گرمیوں کے ہنگامی منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان منصوبوں میں واضح اہداف اور مقررہ مدت بھی شامل کی جائے گی۔
اجلاس میں ملکاجگری کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پنکجا، آپریشنز ڈائریکٹرز نارائنا، ستیہ نارائنا اور کرن کمار، ٹیکنیکل ڈائریکٹر پربھو سمیت مختلف سی جی ایم، جی ایم، ڈی جی ایم اور ٹرانسمیشن و آئی ٹی محکموں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔
واٹر بورڈ کے مطابق، گرمیوں کے دوران پانی کی طلب میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر بروقت منصوبہ بندی کا مقصد حیدرآباد میں پینے کے پانی کی مسلسل اور مؤثر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔