سرّیسیلا میں سیاسی سرگرمیاں تیز، ریونت ریڈی کا کانگریس امیدوار کو کابینہ میں شامل کرنے کا اعلان
تلنگانہ کے سرّیسیلا اسمبلی حلقے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے بدھ کے روز سرّیسیلا کے دورے کے دوران اعلان کیا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں اگر کانگریس امیدوار اس حلقے سے کامیاب ہوتا ہے تو اسے ریاستی کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ سرّیسیلا اس وقت بی آر ایس کے ورکنگ پریزیڈنٹ کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) کی نمائندگی میں ہے۔
سرّیسیلا: تلنگانہ کے سرّیسیلا اسمبلی حلقے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے بدھ کے روز سرّیسیلا کے دورے کے دوران اعلان کیا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں اگر کانگریس امیدوار اس حلقے سے کامیاب ہوتا ہے تو اسے ریاستی کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ سرّیسیلا اس وقت بی آر ایس کے ورکنگ پریزیڈنٹ کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) کی نمائندگی میں ہے۔
چیف منسٹر کے دورے کے دوران کانگریس نے سرّیسیلا میں بڑے پیمانے پر سیاسی پروگرام منعقد کیا۔ جونیئر کالج گراؤنڈ کے ہیلی پیڈ پر پہنچنے کے بعد ریونت ریڈی نے امبیڈکر چوک سے جلسہ گاہ تک پدیاترا کی اور بعد ازاں عوامی جلسے سے خطاب کیا۔
دورے کے موقع پر سرّیسیلا اسمبلی حلقے میں تقریباً 345.78 کروڑ روپے کے مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا۔ ان منصوبوں میں ہینڈلوم اور پاورلوم صنعت سے وابستہ بُنکروں کے لیے نیتنّا بازار کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس کا مقصد سرّیسیلا کی تیار کردہ ٹیکسٹائل مصنوعات کے لیے مارکیٹنگ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں سرّیسیلا اور ویملواڑہ میں ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ ریزیڈنشیل اسکولس کے قیام کے لیے تقریباً 200 کروڑ روپے کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ سرّیسیلا اور کوناراؤ پیٹ میں تلنگانہ پبلک اسکولس کے قیام کے کام بھی شروع کیے گئے۔
ویملواڑہ کے سری راجاراجیشورا سوامی مندر کی ترقی کے لیے 99.40 کروڑ روپے کے کاموں کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرّیسیلا اور ویملواڑہ میں آر ڈی او دفاتر، مختلف منڈلوں میں تحصیلدار دفاتر، ویملواڑہ میں سب رجسٹرار دفتر اور رودرنگی میں 10 ہزار میٹرک ٹن گنجائش والے گودام کی تعمیر کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
دورے کے دوران پڈّور میں اندرا مہیلا شکتی بھون کا افتتاح کیا گیا، جبکہ ویملواڑہ میں خواتین پولیس اسٹیشن اور سرّیسیلا و ویملواڑہ میں ٹریفک پولیس اسٹیشنوں کے قیام کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔
عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے سابق بی آر ایس حکومت اور کے ٹی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سرّیسیلا کے ٹیکسٹائل اور بُنکروں سے متعلق مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے سابق حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔
ریونت ریڈی نے کے ٹی آر اور ان کے خاندان کے اثاثوں اور مبینہ سرمایہ کاری سے متعلق بھی مختلف الزامات عائد کیے اور ان کی تفصیلات سامنے لانے کی بات کہی۔ ان الزامات کے حوالے سے کے ٹی آر اور بی آر ایس کا مؤقف الگ سے موجود ہے، جبکہ بی آر ایس نے اس سے قبل سرّیسیلا میں ترقیاتی کاموں اور اراضی سے متعلق حکومت سے تفصیلات اور وائٹ پیپر کا مطالبہ کیا تھا۔
چیف منسٹر نے سابق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ اور دیگر بی آر ایس رہنماؤں سے متعلق بھی سیاسی امور اٹھائے۔ جلسے میں کانگریس حکومت کی فلاحی اسکیموں اور تقریباً ایک ہزار دن کی کارکردگی کو بھی اجاگر کیا گیا۔
سرّیسیلا کے دورے کو سیاسی اعتبار سے اہم قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ کے ٹی آر طویل عرصے سے اس حلقے کی نمائندگی کررہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے سرّیسیلا کے بعد بی آر ایس کے دیگر اہم حلقوں، بشمول سدّی پیٹ، میں بھی سیاسی پروگرام منعقد کرنے کی بات کہی ہے۔