نمائش کلب میں خواتین کا مشاعرہ- مخیر حیدر , پروفیسر مسعود احمد اور فاروق شکیل کا خطاب
نمائش سوسائٹی کے اشتراک سے منعقدہ خواتین کے مشاعرے سے نمائش کلب نمائش میدان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا
حیدرآباد : جناب مخیر حیدر کنوینر کلچرل کمیٹی نمائش سوسائٹی 2026 نے کہا کہ اردو زبان گنگا جمنی تہذیب کی زبان ہے اردو کے ادبی پروگراموں بالخصوص مشاعروں سے عوام کی ایک بڑی تعداد استفادہ کرتی ہے انہوں نےاردو مشاعروں اور ادبی محفلوں کی افادیت کو اردو زبان و ادب کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے اردو والوں سے خواہش کی کہ وہ اردو کے مشاعروں اور ادبی محفلوں میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں تنظیم” عکس دکن” کے زیر اہتمام نمائش سوسائٹی کے اشتراک سے منعقدہ خواتین کے مشاعرے سے نمائش کلب نمائش میدان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا
مشاعرہ کی صدارت ممتاز و معروف شاعرہ محترمہ ارجمند بانو نے کی جناب مخیر حیدر نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں خواتین اپنی انفرادیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں جو کہ قابل تعریف اور قابل تحسین بات ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے خواتین کی جانب سے مشاعرہ منعقد کرنا یہ ایک خوش آئند بات ہے انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ اس طرح کی محفلوں میں شرکت کریں خواتین کا مشاعرہ منعقد کرنے پر انہوں نے محترمہ ارجمند بانو کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ نمائش سوسائٹی شعرا اور ادیبوں کی سرپرستی کے لیے ہمیشہ اپنا تعاون جاری رکھے گی
پروفیسر مسعود ا حمد کو کنوینر ہیلتھ اینڈ ہائیجین نمائش 2026ء نے کہا کہ نمائش سوسائٹی ابتداہی سے اردو زبان کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہے انہوں نے بتایا کہ نمائش کے دوران اردو کے 50 سے زیادہ پروگرام ہوتے ہیں سوسائٹی 20 نامور تعلیمی ادارے چلاتی ہے جس سے سینکڑوں طلبہ و طالبات مستفیض ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ تعلیمی سطح پر نمائش سوسائٹی کی یہ خدمات قومی سطح پر قابل ستائش ہے انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کو بہت بڑا اعزاز حاصل ہے کہ ہندوستان بھر میں اتنی بڑی صنعتی نمائش کہیں منعقد نہیں ہوتی اس نمائش سے سارے ملک کی ریاست کے تاجرین یہاں آتے ہیں اور عوامی توقعات کو پورا کرتے ہیں جو حیدرآباد کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے
استاد سخن جناب فاروق شکیل مخدوم ایوارڈ یافتہ نے خواتین کا مشاعرہ منعقد کرنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوش آئیند بات ہے کہ خواتین زندگی کی ہر شعبہ میں اگے ہیں انہوں نے کہا کہ خواتین کا مشاعرہ منعقد کرتے ہوئے ارجمندبانو نے قابل ستائش کام کیا ہے انہوں نے نمائش سوسائٹی سے خواہش کی کہ شنکر جی مشاعرہ کا احیا عمل میں لایا جائے جناب فاروق شکیل نے عوام سے خواہش کی کہ وہ اردو کے مشاعروں اور ادبی محفلوں میں مع احباب وقت کی پابندی کے ساتھ شرکت کریں اور اپنے گھروں میں زیادہ سے زیادہ اردو بول چال کو عام کرنے کی کوشش کریں انہوں نے اردو مشاعر وں ادبی محفلوں کی سرپرستی کرنے پر نمائش سوسائٹی کے ذمہ داروں سے اظہار تشکر بھی کیا
اس موقع پر ممتاز شاعرات نے اپنا کلام سنایا محترمہ عطیہ مجیب عارفی نے انتہائی منفرد اور خوبصورت انداز میں مشاعرے کی کاروائی چلاتے ہوئے مشاعرے کے حسن کو رونق بخشی صدر مشاعرہ محترمہ ارجمند بانو کے علاوہ محترمہ مشرف شہریارکاظمی ،تقیہ غزل ،صبیحہ تبسم ،عطیہ مجیب عارفی،ڈاکٹر ثمینہ بیگم، سبیتا سونی،اوما دیوی، رفیعہ نوشین، صائمہ متین ،رفعت کنیز فاطمہ نے اپنا کلام سنایا اس موقع پر جناب مخیر حیدر ،پروفیسر مسعود احمد ،جناب فاروق شکیل، جناب ایس کے افضل الدین ،جناب رحیم اللہ خان نیازی کی جناب لطیف الدین لطیف نے شال پوشی کی محترمہ ارجمند بانو نے شکریہ ادا کیا اس موقع پر ممتاز سینیئر صحافی جناب کے اینواصف ،جناب جہانگیر احساس، جناب خادم رسول عینی، جناب محمد حسام الدین ریاض، ڈاکٹر خواجہ فرید الدین صادق ،جناب عارف الدین احمد ،جناب پرویز حسین جگنو اور دیگر موجود تھے