آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے پر ایران کا غور، عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر ایک نہایت اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے تیل، خوراک اور دیگر اشیاء کی بڑی مقدار دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے مختلف ممالک کے بحری جہاز اس راستے کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔
تہران: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے، جسے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق، یہ فیصلہ ان معاشی پابندیوں کے پس منظر میں زیر غور ہے جو امریکہ اور متعدد یورپی ممالک نے ایران پر عائد کر رکھی ہیں۔ ان پابندیوں کے باوجود کئی ممالک آبنائے ہرمز کے راستے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس پر ایران نے اب ٹیکس عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایران خاص طور پر ان مغربی ممالک پر توجہ مرکوز کر رہا ہے جنہوں نے اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس حوالے سے ایرانی پارلیمنٹ میں ایک تجویز بھی پیش کی جا چکی ہے اور حکومت اس پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر ایک نہایت اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے تیل، خوراک اور دیگر اشیاء کی بڑی مقدار دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے مختلف ممالک کے بحری جہاز اس راستے کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث اس راستے پر بحری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، اور متعدد جہازوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔
تاہم، اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ایران نے اس دوران اپنی تیل برآمدات جاری رکھیں اور بعض خفیہ راستوں کے ذریعے تقریباً 16 ملین بیرل تیل دیگر ممالک تک پہنچایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چین ایران سے تیل خریدنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے۔ موجودہ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز پر ٹیکس نافذ کر دیا تو اس کے عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔