مذہب
ٹرینڈنگ

حقوقِ نفس

اسلام میں اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ نفس کو مار ڈالا جائے، بلکہ اسلامی شریعت یہ چاہتی ہے کہ نفس کے تمام حقوق ادا کئے جائیں اور اُسے زندہ اور کار آمد رکھا جائے، لیکن اس طرح کہ نفس فرمان الٰہی کے تابع رہے۔

شہید حکیم محمد سعید

اس دنیا میں جتنے بھی مذاہب آئے ان میں سے اکثر میں معاشرتی حقوق کو اہمیت دی گئی ہے اور سب سے زیادہ اہمیت ہر مذہب نے ماں باپ کے حقوق کو دی ہے۔ اگر بہ اعتبارِ فطرت اس پر غور کیا جائے تو ماں باپ اور ان کے حقوق کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، وہ بھی ماں باپ کے حقوق کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے، مگر دوسرے مذاہب کے مقابلے میں اسلام نے ایک امتیاز کی شان اختیار کی ہے۔

حقوق کے معاملے میں اسلام نے یہ امتیاز قائم کیا ہے کہ اس نے انسانی حقوق کی درجہ وار تفصیل بھی مہیا کردی ہے کہ کوئی نکتہ تشنہ نہیں رہ گیا۔ انسانوں کے انسانوں پر جو حقوق ہیں ان کی درجہ بندی کے علاوہ حیوانات، نباتات اور جمادات کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ انتہائے احتیاط یہ ہے کہ انسان پر اپنے نفس کا بھی جو حق ہے اس کو بھی درجۂ کمال اہمیت دی گئی ہے، بلکہ اصرار ہے کہ اسلام میں دوسرے مذاہب کی طرح کی ایسی نفس کشی جائز نہیں ہے جو انسان کی اپنی ہلاکت کے مترادف ہو۔ چناں چہ سرکار دو عالمؐ فخر رسل، رحمۃ للعلمین کے مطابق ہر انسان کا خود اپنے اوپر بھی حق ہے، بلکہ اس کے ایک ایک عضو کا اس پر حق ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آں حضرتؐ نے فرمایا:

’’بے شک تیری جان کا تجھ پر حق ہے۔‘‘

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’تیرے بدن کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے۔‘‘

بعض دوسرے مذاہب میں اس بات کو تقویٰ اور پرہیزگاری سمجھا جاتا تھا کہ انسان اپنے جسم کے اعضا کو زیادہ سے زیادہ مشقت میں مبتلا کرے، نفس کی خواہشات کو مختلف غیر فطری طریقوں سے ہلاک کرنے کی کوشش کرے، دنیا سے کنارہ کش ہوجائے اور آبادی سے الگ تھلگ دھیان گیان میں مشغول رہے، مگر اسلام نے قطعیت کے ساتھ ان غیر فطری اصولوں پر پابندی لگادی اور یہ تعلیم دی کہ رہبانیت اور تقشف یعنی اپنے اوپر سختیاں عائد کرلینا اس کی نگاہ میں مطلوبہ طریقہ عبادت نہیں ہے، بلکہ اسلام اس کا سخت مخالف ہے۔

اسلام میں اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ نفس کو مار ڈالا جائے، بلکہ اسلامی شریعت یہ چاہتی ہے کہ نفس کے تمام حقوق ادا کئے جائیں اور اُسے زندہ اور کار آمد رکھا جائے، لیکن اس طرح کہ نفس فرمان الٰہی کے تابع رہے۔ اسلام کا انداز فکریہ ہے کہ نفس کو مارڈالنا نہیں بلکہ اسے قابو میں رکھنا انسان کا تقویٰ ہے اور تزکیۂ نفس منتہائے مقصود ہے۔ اس کی مثال ایک تلوار کی سی ہے۔ تلوار سے بے گناہوں کا قتل کیا جاسکتا ہے، اس لئے سابق شریعتیں کہتی تھیں کہ تلوار کو توڑ پھینک دو یا اسے اس طرح کند کردو کہ اس میں کوئی قوت ہی باقی نہ رہ جائے۔ اس کے برعکس اسلام کہتا ہے کہ تلوارکو نہایت اچھی حالت میں رکھو، لیکن اسے فرمانِ الٰہی کے تابع کردو تاکہ مظلوموں کی حمایت کے کام آئے۔

آں حضرتؐ کبھی نفس کو اس کے حقوق سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ آپؐ کی تاکید یہ تھی کہ دنیا میں کھاؤ پیو، اچھے لباس پہنو، شادی بیاہ کرو، لیکن ہر حال میں اسلامی شریعت کی حدود میں رہنے کی کوشش کرو۔ اعتدال و توازن قائم رکھو۔

عبادت بے شک اللہ سے لولگانے کا وسیلہ ہے، لیکن اسلام اس بات کو پسندیدہ نہیں سمجھتا کہ اپنے جسم کو اس کی برداشت سے زیادہ تکلیف دی جائے۔

ایک بار ایک صحابی خدمت اقدسؐ میں تشریف لائے اور عرض کیا کہ ہم میں سے ایک نے ترکِ غذا اور دوسرے نے ترکِ نکاح کا عزم کرلیاہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں تو دونوں سے متمتع ہوتا ہوں، غذا سے بھی اور نکاح سے بھی۔ چناںچہ آپؐ کی مرضی نہ پاکر دونوں صحابی اپنے ارادے سے باز رہے۔ عرب میں مدت سے یہ طریقہ رائج تھا کہ بعض لوگ کئی کئی دن مسلسل روزے رکھتے تھے۔ بعض صحابہؓ نے بھی اس کا ارادہ کیا، لیکن آپؐ نے سختی کے ساتھ انہیں روک دیا۔

حضرت عبداللہ ابن عمرؓ زہد و تقویٰ کیلئے اپنے ہم عصروں میں بھی ممتاز سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے عہد کرلیا تھا کہ ہمیشہ دن کو روزے رکھیں گے اور رات بھر عبادت کریں گے۔ آں حضرتؐ کو خبر ہوئی تو بلا بھیجا اور پوچھا کہ کیا یہ خبر صحیح ہے؟ عرض کیا: ’’ہاں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’تم پر تمہارے جسم کا حق ہے۔ آنکھ کا حق ہے، بیوی کا حق ہے۔ مہینے میں تین دن روزے کافی ہیں۔‘‘

غرض آں حضرتؐ ہمیشہ اس بات کی تاکید فرماتے تھے کہ دوسرے مذاہب والوں کی طرح نفس کو اس کے حقوق سے محروم نہ کرو۔ اس کے حقوق ادا کرتے رہو اور قابو میں رکھنے کی کوشش کرو، اور نفس کے تزکیہ کی شان پیدا کرو۔ اصل کمال یہ ہے کہ اپنے نفس کے حقوق بھی ادا کئے جائیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی بھی کی جائے۔ اسلام نے دین کے ساتھ دنیا کی فلاح و بہبود کا بھی انتظام کیا ہے اور یہ دعا سکھائی: ’’اے ہمارے رب! اس دنیا میں بھی ہمیں فلاح و خیر عطا فرما اور عاقبت میں بھی اپنی بخشش اور خوش نودی سے سرفراز فرما۔‘‘ اس طرح دنیا کے کاموں کو بھی، اگر وہ شریعت کی حدود کے اندر ہوں، عبادت اور اللہ کی خوش نودی کا وسیلہ قرار دیا۔ یہی نہیں بلکہ آں حضرتؐ جو عبدیت کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے اور رسالت کے منصب سے بھی سرفراز فرمائے گئے تھے، جب عبادت و ریاضت میں اس سے زیادہ مشغول رہنے لگے جو خالقِ ارض و سما کو مطلوب تھا تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ مزمل میں گویا اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ نفس کے حقوق کا بھی خیال رکھیں۔ چنانچہ فرمایا:

ترجمہ: ’’رات کو قیام کیا کریں، مگر تھوڑی رات۔ قیام آدھی رات کریں یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ۔‘‘

اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبؐ کی عبادت سے ہر طرح راضی تھا، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ چاہتا تھا کہ آپؐ نفس کے حقوق بھی ادا کرتے رہیں، یعنی آرام بھی کریں، رات کو سویا بھی کریں۔ اس سے نفس اور جسم زیادتی کا شکار نہیں ہوں گے بلکہ انہیں جو اُن کا حق ہے وہ ملتا رہے گا۔

غرض اسلامی شریعت اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ انسان احکامِ الٰہی کے دائرے میں رہ کر اس دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرے کہ تمام ابنائے جنس کے حقوق بھی ادا ہوتے رہیں اور نفس بھی ظلم و زیادتی کا شکار نہ ہو۔ اسلام ایک دینِ فطرت ہے، اس کی شریعت کاکوئی امر اور کوئی حکم فطرت کے خلاف نہیں ہے۔ اسلام جب توازن اور عدل و اعتدال کا مشورہ دیتا ہے اور میانہ روی کو خیر قرار دیتا ہے تو وہ فطرت کے عین تقاضے پورے کرتا ہے۔

نفس اور حقوقِ نفس کے باب میں بھی شریعتِ اسلامیہ نے اعتدال کو بدرجہ کمال اہمیت دی ہے۔ ایک طرف اصرار ہے کہ نفسِ انسانی کے تمام حقوق ادا ہونے چاہیں اور اس کے ساتھ ہی فیصلہ دیا ہے کہ نفس کو تابع فرمانِ الٰہی ہونا اور رہنا چاہئے۔ نفس کے تزکیے کی راہ بتادی اور اسے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس روشنی میں ہمیں چاہئے کہ ہم افراط و تفریط سے بچتے رہیں۔ عبادت بھی کریں اور دوسروں کے حقوق بھی ادا کریں۔
٭٭٭