حیدرآباد میں پانی کا بحران، اکتوبر میں 2.2 لاکھ واٹر ٹینکروں کی بکنگ
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد میں روزانہ تقریباً 7 ہزار واٹر ٹینکروں کی بکنگ ہو رہی ہے۔ اس کے برخلاف گزشتہ سال اکتوبر میں صرف 87 ہزار ٹینکروں کی بکنگ ہوئی تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران واٹر ٹینکروں کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
حیدرآباد: شہر میں پینے کے پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان اکتوبر کے مہینے میں تقریباً 2.2 لاکھ واٹر ٹینکروں کی بکنگ درج کی گئی، جس سے پانی کی قلت کی سنگین صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد میں روزانہ تقریباً 7 ہزار واٹر ٹینکروں کی بکنگ ہو رہی ہے۔ اس کے برخلاف گزشتہ سال اکتوبر میں صرف 87 ہزار ٹینکروں کی بکنگ ہوئی تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران واٹر ٹینکروں کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ٹینکروں کی بکنگ میں غیر معمولی اضافے کے بعد شہر میں پانی کی فراہمی اور آبی وسائل کے انتظام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ناقدین نے الزام عائد کیا ہے کہ جب آبی ذخائر میں پانی دستیاب تھا، اس وقت کانگریس حکومت نے پانی نچلے علاقوں کی جانب چھوڑ دیا، جس کے باعث اب حیدرآباد کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر دستیاب پانی کو بہتر انداز میں محفوظ کیا جاتا تو شہر کے عوام کو موجودہ قلت کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور واٹر ٹینکروں پر انحصار بھی کم رہتا۔
واٹر ٹینکروں کی بڑھتی ہوئی مانگ نے شہر میں پینے کے پانی کی فراہمی، آبی ذخائر کے انتظام اور مستقبل میں پانی کی دستیابی سے متعلق تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔