حیدرآباد

سابق وزیر بابو موہن بی جے پی سے مستعفی

بابو موہن ورنگل سے ایم پی ٹکٹ کی امید کر رہے ہیں۔ لیکن زعفرانی پارٹی نے بابو موہن کو ورنگل سے ٹکٹ دینے سے انکار کردیا۔ بابو موہن نے اس پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کو ہی الوداع کہہ دیا۔

حیدرآباد: سابق وزیر بابو موہن نے بی جے پی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بی جے پی کی قیادت پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے  ان کا استعمال کیا گیا ہے۔ بابو موہن نے بی جے پی کے ٹکٹ پر 2018 اور 2023 میں اندول حلقہ سے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

متعلقہ خبریں
حیدرآباد کو بھاگیہ نگر سے موسوم کرنے کاوعدہ، کشن ریڈی کی زہر افشانی
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع

 اس بار بابو موہن ورنگل سے ایم پی ٹکٹ کی امید کر رہے ہیں۔ لیکن زعفرانی پارٹی نے بابو موہن کو ورنگل سے ٹکٹ دینے سے انکار کردیا۔ بابو موہن نے اس پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کو ہی الوداع کہہ دیا۔

 حال ہی میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے بابو موہن کے بیٹے اودے موہن کو اندول سے ٹکٹ دینے پر غور کیا تھا۔ سابق وزیر نے الزام لگایا کہ بی جے پی ان کے خاندان میں پھوٹ ڈال رہی ہے۔