حیدرآباد

سعودی بس حادثے کا واحد زندہ بچ جانے والا 24 سالہ حیدرآبادی نوجوان محمد شعیب

سعودی عرب کے شہر مدینہ کے قریب پیش آئے دل دہلا دینے والے سڑک حادثے میں حیدرآباد کے 45 عمرہ زائرین جان کی بازی ہار بیٹھے، جس سے شہر میں غم اور سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔

سعودی عرب کے شہر مدینہ کے قریب پیش آئے دل دہلا دینے والے سڑک حادثے میں حیدرآباد کے 45 عمرہ زائرین جان کی بازی ہار بیٹھے، جس سے شہر میں غم اور سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔ یہ المناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب مکہ سے مدینہ جا رہی بس کو ایک ڈیزل ٹینکر نے ٹکر مار دی، جس کے بعد بس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ بس میں موجود 46 افراد میں سے صرف ایک ہی شخص زندہ بچ سکا۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

واحد زندہ بچنے والے 24 سالہ محمد عبدالشعیب کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ حادثے کے وقت وہ ڈرائیور کے برابر والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے، اسی وجہ سے وہ کسی طرح جلتی ہوئی بس سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ شعیب کو زخمی حالت میں مقامی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، تاہم ان کی مکمل طبی حالت کے بارے میں ابھی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں شعیب کے تمام گھر والے بھی ہلاک ہو گئے، جس نے اس سانحے کو مزید دردناک بنا دیا ہے۔

معلومات کے مطابق 9 نومبر کو حیدرآباد سے 54 افراد عمرہ کے لیے جدہ روانہ ہوئے تھے۔ ان کا پروگرام 23 نومبر تک جاری رہنا تھا۔ گروپ میں شامل چار افراد اتوار کے روز کار کے ذریعے مدینہ چلے گئے جبکہ مزید چار افراد مکہ میں ہی رک گئے۔ باقی 46 زائرین ایک بس کے ذریعے مدینہ روانہ ہوئے تھے۔

بدقسمتی سے مدینہ سے تقریباً 25 کلومیٹر دور ڈیزل ٹینکر سے ٹکر کے بعد بس میں آگ لگ گئی، جس نے چند لمحوں میں پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس ہولناک سانحے میں تقریباً تمام زائرین موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ بھارتی عمرہ زائرین کے ساتھ پیش آنے والے بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔

سعودی اور بھارتی حکام مل کر ہلاک شدگان کی شناخت، اسپتالوں کی تفصیلات، اور ضروری امدادی کارروائیوں کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہیدرآباد میں متاثرہ خاندان صدمے میں ہیں اور سرکاری معلومات کے منتظر ہیں۔