حیدرآباد میں 36 گھنٹے پانی کی سربراہی متاثر، کئی علاقوں میں بحران کا امکان
حیدرآباد کے کئی علاقوں میں 5 اور 6 اکتوبر کو 36 گھنٹوں تک پانی کی سربراہی متاثر رہنے کا امکان ہے۔ کرشنا ڈرنکنگ واٹر سپلائی پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کے تحت آنے والی ایم ایس پمپنگ مین پر مرمت اور تبدیلی کے کام کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوگی۔
حیدرآباد کے کئی علاقوں میں 5 اور 6 اکتوبر کو 36 گھنٹوں تک پانی کی سربراہی متاثر رہنے کا امکان ہے۔ کرشنا ڈرنکنگ واٹر سپلائی پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کے تحت آنے والی ایم ایس پمپنگ مین پر مرمت اور تبدیلی کے کام کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوگی۔
حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے مطابق یہ کام 5 اکتوبر کی صبح 6 بجے شروع ہوگا اور 6 اکتوبر کی شام 6 بجے تک جاری رہے گا۔ اس دوران خراب ایم ایس ایئر ٹی اور والوز کو تبدیل کرنے کے علاوہ اسکور پائپ لائن میں موجود لیکیج کی بھی مرمت کی جائے گی۔
واٹر بورڈ نے بتایا کہ کام کے دوران بعض علاقوں میں پانی کی سربراہی مکمل طور پر بند ہوسکتی ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں جزوی طور پر پانی کی فراہمی متاثر ہونے یا کم دباؤ کے ساتھ پانی آنے کا امکان ہے۔
پانی کی سربراہی سے متاثر ہونے والے علاقوں میں ادیبٹلہ، کمّگوڑہ، گورم گوڑہ، بی این ریڈی نگر، ونستھلی پورم، آٹو نگر، الکاپوری، بیراپاگڈہ، حبسی گوڑہ، رامن تھاپور، وینکٹ ریڈی نگر، اپل، ناچارم، ایچ ایم ٹی نگر، ترنکا اور بدھا نگر شامل ہیں۔
اس کے علاوہ لالاپیٹ کے بعض حصوں، حسام ت پیٹ، پرکاش نگر، میکالمندی، بھولک پور کے بعض علاقوں، پدم راؤ نگر، بیگم پیٹ، ساؤتھ سنٹرل ریلوے، ایم ای ایس، سکندرآباد کنٹونمنٹ، لالہ گوڑہ، اڈاگٹہ، پٹی گوڑہ، نلہ گٹہ، گوتم نگر، فیروز گوڑہ، بنسی لال پیٹ، رام گوپال پیٹ، سیتا پھل منڈی اور میٹو گوڑہ میں بھی پانی کی سربراہی متاثر رہے گی۔
میر پیٹ، بدنگ پیٹ، اے آر سی آئی، بالاپور، میسارم، برکاس، این پی اے، شمش آباد، مدھوبن اور پرشاسن نگر کے بعض علاقوں میں بھی پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ واٹر بورڈ نے متاثرہ علاقوں کے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ ضروری مقدار میں پانی پہلے سے ذخیرہ کرلیں اور 36 گھنٹوں کے دوران پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں۔