جنوری سے تلنگانہ میں 6 ماہ طویل آبی وسائل تحفظ پروگرام
تمام دیہاتوں میں تالابوں، نہروں اور آبی ذخائر کی بحالی کا منصوبہ، زیرزمین پانی کی سطح بہتر بنانے اور ال نینو کے اثرات سے نمٹنے پر توجہ، ضمانت روزگار اسکیم کے تحت دیہی عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے: وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی
حیدرآباد (منصف نیوز بیورو) تلنگانہ حکومت جنوری تا جون 2027 چھ ماہ پر مشتمل ریاست گیر پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جس کے تحت تمام دیہاتوں میں آبی وسائل کی بحالی، تجدید اور تحفظ کے اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر آبپاشی این اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ اس پروگرام کے ذریعہ ال نینو کے موسمی حالات سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے ساتھ دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
جمعرات کو ریاستی سکریٹریٹ میں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ محکمہ پنچایت راج اور محکمہ دیہی ترقی مشترکہ طور پر ایک جامع عملی منصوبہ تیار کریں گے تاکہ آئندہ مانسون سے قبل اس پر عمل آوری کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ال نینو کے اثرات کو مستقل آبی وسائل کے قیام، آبپاشی کے بنیادی ڈھانچہ کو مستحکم بنانے اور زیرزمین پانی کی دستیابی بہتر بنانے کے موقع میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اس پروگرام کے تحت انجام دیے جانے والے کاموں کی 355 زمروں پر مشتمل فہرست پہلے ہی تیار کرلی گئی ہے۔
اس پروگرام میں بنیادی طور پر ضمانت روزگار اسکیم کے نظام سے استفادہ کیا جائے گا جبکہ موجودہ 60:40 کے مالیاتی انتظام کے علاوہ ضرورت پڑنے پر ریاستی حکومت اضافی مالی امداد بھی فراہم کرے گی۔ اہم سرگرمیوں میں چھوٹے آبپاشی تالابوں، دیہی تالابوں، پانی پہنچانے والی نالیوں اور نہروں سے گاد کی نکاسی اور ان کی تجدید شامل ہوگی۔
اس کے علاوہ پانی جمع کرنے کے روایتی ڈھانچوں کی بحالی، خراب شدہ آبی اخراج کے دروازوں کی مرمت، جمع شدہ گاد اور جھاڑ جھنکار کی صفائی اور تالابوں کے بنیادی ڈھانچہ کی مرمت بھی انجام دی جائے گی۔ تلنگانہ میں 2015-16 کے دوران شدید خشک سالی کے حالات میں زیرزمین پانی کی سطح میں گراوٹ اور ناکافی بارش کے باعث زرعی سرگرمیاں اور دیہی عوام کے ذرائع معاش متاثر ہوئے تھے۔
اس صورتحال نے روایتی آبی ذخائر کی بحالی اور مقامی آبپاشی نظام کو مستحکم بنانے کی اہمیت اجاگر کی تھی۔ مجوزہ پروگرام کے ذریعہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ، زیرزمین پانی کی دوبارہ بھرپائی اور آبپاشی کی سہولتوں میں بہتری لاکر مستقبل میں اسی نوعیت کی قلت آب کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس کے علاوہ ضمانت روزگار پروگراموں کے ذریعہ زرعی مزدوروں کی شمولیت سے دیہی خاندانوں کو آمدنی کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔ پروگرام کی کامیاب عمل آوری کے لیے مناسب مالی وسائل کی فراہمی، دیہی سطح پر عوامی شمولیت اور باقاعدہ نگرانی ضروری ہوگی تاکہ بحال کیے جانے والے آبی وسائل بدستور کارآمد رہیں۔