عدالتی حکم نظرانداز کرنا سرکل انسپکٹر کو مہنگا پڑا
تلنگانہ ہائی کورٹ نے عدالتی احکامات کی دانستہ خلاف ورزی اور توہینِ عدالت کے معاملے میں میاں پور پولیس اسٹیشن کے سرکل انسپکٹر ایم پریم کمار کو چار ہفتوں کی سادہ قید اور 2,000 روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
حیدرآباد (منصف نیوز بیورو) تلنگانہ ہائی کورٹ نے عدالتی احکامات کی دانستہ خلاف ورزی اور توہینِ عدالت کے معاملے میں میاں پور پولیس اسٹیشن کے سرکل انسپکٹر ایم پریم کمار کو چار ہفتوں کی سادہ قید اور 2,000 روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
جسٹس سی وی بھاسکر ریڈی نے حفیظ پیٹ میں واقع ایک اراضی کے تنازعہ میں مستقل حکمِ امتناعی حاصل کرنے والے افراد کو پولیس تحفظ فراہم کرنے سے متعلق عدالتی ہدایات پر عمل نہ کرنے پر یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اے شیکھر بابو اور دیگر سات افراد کی جانب سے دائر کردہ توہینِ عدالت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے کہا کہ پولیس عہدیدار نے عدالتی احکامات کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے 2009 میں حفیظ پیٹ موضع کے گوکل پلاٹس میں واقع 700 مربع گز اراضی رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ذریعہ خریدی تھی اور بعد ازاں اس اراضی پر مستقل حکمِ امتناعی حاصل کیا تھا، جس کی اپیلٹ کورٹ نے بھی توثیق کی تھی۔ ہائی کورٹ نے دوسری اپیل میں اس حکم پر روک لگانے کی درخواست بھی مسترد کردی تھی۔
اراضی کے تنازعہ کے مسلسل جاری رہنے پر درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس نے 20 اگست 2019 کو میاں پور پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر کو حکم دیا تھا کہ مستقل حکمِ امتناعی پر عمل درآمد اور درخواست گزاروں کے قبضے کے تحفظ کے لیے پولیس مدد فراہم کی جائے۔ درخواست گزاروں نے الزام لگایا کہ عدالتی حکم برقرار رہنے کے باوجود پولیس نے مؤثر تحفظ فراہم نہیں کیا، جس پر انہوں نے دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
عدالت نے 9 نومبر 2023 کو اسٹیشن ہاؤس آفیسر کو طلب کرتے ہوئے وضاحت طلب کی تھی کہ سابقہ حکم کے مطابق پولیس تحفظ کیوں فراہم نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں درخواست گزاروں نے عدالتی احکامات پر مسلسل عمل نہ ہونے کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی۔
سرکل انسپکٹر کی جانب سے دفاع کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل محمد عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ عہدیدار نے 13 جولائی 2023 کو سرکل انسپکٹر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی تھی اور انہیں سابقہ عدالتی حکم کی اطلاع 7 نومبر 2023 کو درخواست گزاروں کی جانب سے دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عہدیدار 9 نومبر 2023 کو اپنے عملے کے ساتھ متنازعہ اراضی پہنچے تھے اور وہاں تعمیراتی کام انجام دینے والوں کو کام روکنے کی ہدایت دی تھی۔
سرکل انسپکٹر نے عدالت میں غیر مشروط معذرت بھی پیش کرتے ہوئے توہینِ عدالت کا مقدمہ ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جب کسی عہدیدار کے علم میں عدالتی حکم لایا جائے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکم کا جائزہ لے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔