دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
انہوں نے جامعۃ المؤمنات کو ریاست تلنگانہ کی ایک منفرد اور مثالی جامعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ہزاروں کی تعداد میں ہماری اسلامی بچیاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم بھی حاصل کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سے عالمات، مفتیات اور ڈاکٹرز تیار ہو رہی ہیں جو مستقبل میں ملت و قوم کی رہنمائی کریں گی۔
حیدرآباد: آج ریاست آندھرا پردیش کے وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون این محمد فاروق نے ریاست تلنگانہ میں واقع خواتین و طالبات کی عظیم دینی و تعلیمی درسگاہ جامعۃ المؤمنات، مغلپورہ حیدرآباد میں منعقدہ جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے طالبات کو نصیحت کی کہ وہ تعلیم کے حصول میں محنت، سچی لگن اور مسلسل مشقت کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے تعلیم دینی ہو یا عصری، دونوں کا باہمی امتزاج انسان کو بہتر انداز میں زندگی گزارنے کا سلیقہ عطا کرتا ہے۔
وزیرِ موصوف نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ عہدِ نبوی ﷺ میں بھی صحابیاتِ رسول ﷺ براہِ راست حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلیم حاصل فرمایا کرتی تھیں، جو اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ اسلام میں علم حاصل کرنا مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ لہٰذا آج کی طالبات کو بھی اسی سنہری روایت کو زندہ رکھتے ہوئے علم کے زیور سے خود کو آراستہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے جامعۃ المؤمنات کو ریاست تلنگانہ کی ایک منفرد اور مثالی جامعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ہزاروں کی تعداد میں ہماری اسلامی بچیاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم بھی حاصل کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سے عالمات، مفتیات اور ڈاکٹرز تیار ہو رہی ہیں جو مستقبل میں ملت و قوم کی رہنمائی کریں گی۔
انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ ریاست آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والی کئی طالبات بھی یہاں ہاسٹل میں قیام کر کے تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور علمی میدان میں نمایاں صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
جناب این محمد فاروق نے طالبات سے مخاطب ہو کر کہا کہ جب وہ تعلیم مکمل کر کے اپنے اپنے اضلاع اور علاقوں میں واپس جائیں تو کم از کم اپنے گھروں، دیوان خانوں یا محلوں میں بچوں کو جمع کر کے دینی تعلیم کا اہتمام کریں، کیونکہ دینی تعلیم سے ایمان مضبوط ہوتا ہے، توحید و رسالت کا شعور پیدا ہوتا ہے اور اخلاقی تربیت سنورتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج بچوں میں دینی تعلیم کی کمی کے باعث کئی فکری و اخلاقی مسائل جنم لے رہے ہیں، جن کا تدارک نہایت ضروری ہے۔
وزیرِ موصوف نے جامعہ کے ناظم مولانا مفتی مصطفیٰ علی قادری صاحب اور ان کے برادر مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری صاحب (امام و خطیب حج ہاؤز، تلنگانہ) کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ حضرات خود دینی و عصری تعلیم کے حسین امتزاج کی عملی مثال ہیں۔ انہوں نے دین کی خدمت کو خالصتاً للہ انجام دیتے ہوئے اپنے اپنے ذمہ داری کے فرائض بھی سرانجام دیے اور عصری تعلیم کے ذریعے باعزت روزگار اختیار کر کے نوجوانوں کے لیے ایک مثالی نمونہ قائم کیا ہے۔
آخر میں جناب ایم ڈی محمد فاروق نے کہا کہ جامعۃ المؤمنات جیسی درسگاہیں ہی وہ مراکز ہیں جہاں سے علم، کردار اور عمل کے ایسے چراغ روشن ہوتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے راہِ ہدایت بن جاتے ہیں، اور طالبات ان عظیم مثالوں کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی کو ایک اعلیٰ مقصد کے لیے وقف کر سکتی ہیں۔
مولانامفتی محمد حسن الدیں نقشبندی صدر مفتی جامعتہ المؤمنات مغلپورہ حیدرآباد نے جلسہ کی نگرانی کیا اس موقع پر مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد مستان علی قادری بانی وناظم اعلی جامعتہ المؤمنات مغلپورہ حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری شعبہ عربی محکمہ تعلیم حکومت تلنگانہ جناب معیز چودھری جناب عظیم خان مفتی عبدالرحیم قادری کے علاوہ دیگر حضرات نےشریک جلسہ رہے ہیں