مشرق وسطیٰ

ایران میں دکان پر لگا پیغام انسانیت اور یکجہتی کی علامت

سپر مارکیٹ کے باہر آویزاں ہاتھ سے لکھے گئے بورڈ پر درج تھا کہ جتنی ضرورت ہو لے جائیں، جنگ کے بعد ادائیگی کر دیں۔ یہ پیغام دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگیا اور عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

تہران :  ایران میں جاری جنگ اور برے معاشی حالات کے دوران ایک مقامی سپر مارکیٹ انسانیت اور یکجہتی کی علامت بن گئی، جہاں دکاندار کے ایک سادہ پیغام نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔

متعلقہ خبریں
ایران عالمِ اسلام کی پہلی دفاعی لائن ہے صیہونی صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں
یوم ”میرا ووٹ میرا حق“ کے موقع پر چیف جسٹس آف انڈیا کا پیام
ڈاکٹر مہدی کا محکمہ ثقافتی ورثہ و آثار قدیمہ تلنگانہ کا دورہ، مخطوطات کے تحفظ کے لیے ایران سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ
ایران میں زہریلی شراب پینے سے مہلوکین کی تعداد 26ہوگئی
اسرائیل کو سخت ترین سزا دینے كیلئے حالات سازگار ہیں:علی خامنہ ای

سپر مارکیٹ کے باہر آویزاں ہاتھ سے لکھے گئے بورڈ پر درج تھا کہ جتنی ضرورت ہو لے جائیں، جنگ کے بعد ادائیگی کر دیں۔ یہ پیغام دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگیا اور عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی اور مہنگائی میں اضافے کے باعث ایران میں اشیائے خورونوش کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں اس دکاندار کا اقدام صرف ایک ذاتی مدد نہیں بلکہ معاشرتی یکجہتی کی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام ایران کی وال آف کانئنڈنس جیسی روایت کی جدید شکل ہے، جہاں لوگ ضرورت مندوں کے لیے کپڑے اور کھانا چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ روایت مشکل حالات میں ایک دوسرے کا سہارا بننے کی عکاسی کرتی ہے۔

ایرانی حکومت کی جانب سے حال ہی میں قومی اتحاد کا ہفتہ بھی منایا گیا تھا اور اس دوران ایسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔