حیدرآباد

مسجد نمرہ میں مدرسہ اسلامیہ عثمان اعظم العلوم کا باوقار جلسۂ دستاربندی و عطائے اسناد

مسجد نمرہ، امان نگر اے میں مدرسہ اسلامیہ عثمان اعظم العلوم کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان اور روح پرور جلسۂ دستاربندی و عطائے اسناد منعقد ہوا۔ اس باوقار تقریب میں فارغین اور حفاظِ کرام کی دستاربندی کی گئی اور انہیں اسناد و خلعت سے نوازا گیا۔ محفل میں اہلِ محلہ، معززینِ شہر، علماء کرام، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد شریک رہی۔

حیدرآباد: مسجد نمرہ، امان نگر اے میں مدرسہ اسلامیہ عثمان اعظم العلوم کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان اور روح پرور جلسۂ دستاربندی و عطائے اسناد منعقد ہوا۔ اس باوقار تقریب میں فارغین اور حفاظِ کرام کی دستاربندی کی گئی اور انہیں اسناد و خلعت سے نوازا گیا۔ محفل میں اہلِ محلہ، معززینِ شہر، علماء کرام، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد شریک رہی۔

متعلقہ خبریں
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں
نمائش کلب میں زندہ دلان حیدرآباد کی محفلِ لطیفہ گوئی، “خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں” کا پیغام عام
نمائش سوسائٹی تعلیم و ثقافت کے فروغ میں سرگرم، عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر

تقریب میں مولانا مفتی محمد حسن الدین نقشبندی، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد مستان علی قادری، مولانا مفتی ڈاکٹر محمد عبد الواسع احمد صوفی، جناب سعادت علی، جناب محمد عبد الوحید، جناب عبدالمؤمن جانی، جناب عمران اور ناظمِ جلسہ مولانا حافظ محمد رضوان سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤس نامپلی، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا قادری نے حفاظِ کرام کی فضیلت اور عظمت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حافظِ قرآن اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اس کے سینے میں کلامِ الٰہی محفوظ ہوتا ہے۔ حدیثِ نبویؐ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حافظِ قرآن اور اس کے والدین کو قیامت کے دن عزت و توقیر کا تاج پہنایا جائے گا۔

انہوں نے حفاظِ کرام کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ حفظِ قرآن کسی منزل کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی ذمہ داری کا آغاز ہے۔ قرآنِ کریم کو یاد رکھنے کے ساتھ اس پر عمل کرنا اور اس کی تعلیمات کو عام کرنا ہر حافظ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حافظِ قرآن کو اپنے اخلاق، کردار اور گفتار میں بھی قرآنی تعلیمات کو نمایاں کرنا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کے لیے عملی نمونہ بن سکے۔

مولانا صابر پاشا قادری نے والدین کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ خوش نصیب ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے آراستہ کیا۔ ان کا یہ اقدام نہ صرف ان کے لیے باعثِ اجر ہے بلکہ معاشرے کی اصلاح اور نئی نسل کی دینی تربیت کا ذریعہ بھی ہے۔

استقبالِ رمضان کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآن اور رمضان کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ جس گھر میں حافظِ قرآن موجود ہو وہ گھر رحمتوں اور برکتوں کا مرکز بن جاتا ہے۔ انہوں نے حاضرین کو تلقین کی کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل قرآنِ کریم سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں اور حفاظِ کرام کی قدر کریں۔

تقریب کے اختتام پر حفاظ اور فارغین کی دستاربندی کی گئی اور انہیں اسناد و خلعت پیش کیے گئے۔ بعد ازاں اجتماعی دعا کے ساتھ جلسہ اپنے اختتام کو پہنچا، جس میں امتِ مسلمہ کی فلاح، ملک و ملت کی سلامتی اور رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں سے بھرپور استفادے کی دعا کی گئی۔