جیل میں عباس انصاری کی زندگی خطرہ میں‘ بھائی کا دعویٰ
عباس انصاری کے بھائی نے مکتوب میں الزام عائد کیاکہ ان کے بھاء کو کنٹوسنگھ سے خطرہ لاحق ہے جو کاس گنج (خاص گنج) جیل میں ہی قید ہے۔ انہوں نے حکومت سے گذارش کی کہ ان کے بھائی کو کاس گنج(خاص گنج) جیل سے کسی دوسری جیل کو منتقل کردیاجائے۔

لکھنو: اترپردیش کے رکن اسمبلی عباس انصاری کے چھوٹے بھائی عمرانصاری نے ریاستی حکومت کو لکھا ہے کہ کاس گنج (خاص گنج) جیل میں ان کے بھائی کی زندگی خطرہ میں ہے۔
حلقہ مؤ سے سہدیو بھارتیہ سماج پارٹی(ایس بی ایس پی) کے رکن اسمبلی عباس انصاری‘ منی لانڈرنگ کیس میں کاس گنج(خاص گنج) جیل میں بند ہیں۔ وہ مختارانصاری کے لڑکے ہیں۔
جرائم پیشہ سرغنہ سے سیاستداں بنے مختارانصاری بھی جیل میں بند ہیں۔ عباس انصاری کے بھائی نے مکتوب میں الزام عائد کیاکہ ان کے بھاء کو کنٹوسنگھ سے خطرہ لاحق ہے جو کاس گنج (خاص گنج) جیل میں ہی قید ہے۔ انہوں نے حکومت سے گذارش کی کہ ان کے بھائی کو کاس گنج(خاص گنج) جیل سے کسی دوسری جیل کو منتقل کردیاجائے۔
انہوں نے الزام عائد کیاکہ عباس انصاری کو کنٹوسنگھ کی مدد سے کاس گنج (خاص گنج) جیل میں ہلاک کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ کنٹوسنگھ کو لکھنو کے مشہور اجیت سنگھ قتل کیس کا منصوبہ ساز سمجھاجاتا ہے۔
اس کے علاوہ اس کا نام 2013 میں بی ایس پی کے سابق رکن اسمبلی سہدیوسنگھ کے قتل میں بھی آیا تھا۔عباس انصاری کو پہلے چترکوٹ جیل میں رکھاگیاتھا لیکن ان کی نکہت بانو کی گرفتاری کے بعد انہیں گذشتہ ہفتہ کاس گنج(خاص گنج) جیل منتقل کردیاگیا۔ نکہت بانو نے اپنے شوہر سے جیل میں ’غیرقانونی‘ ملاقات کی تھی۔