تلنگانہ

 تلنگانہ میں تقریباً 64 فیصد پولنگ، میدک میں سب سے زیادہ جبکہ حیدرآباد میں سب سے کم رائے دہی، جانئے مزید تفصیل

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق شام 5 بجے تک 63.94 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ واضح رہے کہ گزشتہ انتخابات میں 73.7 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی تھی۔

حیدرآباد: تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں صرف 64 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ریاست کے 13 حلقوں میں رائے دہی شام 4 بجے ختم کردی گئی جبکہ ماباقی 106 حلقوں میں شام 5 بجے رائے دہی کا اختتام عمل میں آیا۔ پولنگ اسٹیشنوں پر موجود لوگوں کو 5 بجے کے بعد بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔

متعلقہ خبریں
ووٹر لسٹ میں غلطیوں کے ازالہ کے بغیر نئی فہرست کا اجراء افسوسناک
حیدرآباد کومشترکہ صدر مقام برقرار رکھنے کا مطالبہ،ہائی کورٹ میں عرضی
41 برسوں کے بعد کسی وزیراعظم کا دورہ عادل آباد
آنے والے دنوں میں گرم میں اضافہ ہوگا : محکمہ موسمیات
لون ایپ کے ایجنٹس کی ہراسانی، ایک شخص نے خودکشی کرلی

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق شام 5 بجے تک 63.94 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ واضح رہے کہ گزشتہ انتخابات میں 73.7 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی تھی۔ ریاست بھر میں بعض مقامات پر حریف گروپس کے درمیان چھوٹی موٹی جھڑپوں کو چھوڑ کر پولنگ کا عمل  مجموعی طورپرپرامن رہا۔

ریاستی دارالحکومت حیدرآباد کے علاوہ دیگر شہری علاقوں میں بھی الیکشن کمیشن اور کئی غیر سرکاری تنظیموں کی تہشیری مہم کے باوجود پولنگ کا تناسب مایوس کن رہا۔ حیدرآباد مجموعی طورپر صرف 39.9 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی جبکہ متصل میڑچل، ملکاجگیری اور رنگاریڈی اضلاع میں بالترتیب 49.25 اور 53.03 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔

ضلع میدک میں سب سے زیادہ 80.28 فیصد پولنگ ہوئی جبکہ جنگاؤں میں 80.23 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ضلع عادل آباد اور کھمم کے ماوسٹ متاثرہ علاقوں کے 13 حلقوں میں رائے دہی شام 4 بجے ختم کردی گئی۔ سرپور، چنور، بیلم پلی، منچریال، آصف آباد، منتھنی، بھوپال پلی، ملگ، پنا پاکا، یلندو، کتہ گوڑم ، اشواراؤ پیٹ اور بھدراچلم میں شام 4 بجے تک پولنگ ہوئی۔

تلنگانہ انتخابات میں رائے دہی کے اہل 3.26 کروڑ لوگ ہیں۔ تاہم ان میں سے صرف 64فیصد لوگوں نے ہی حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ انتخابات میں جملہ 2 ہزار290 امیدوار میدان میں تھے۔ ووٹوں کی گنتی 3 دسمبر کو ہوگی۔