حیدرآباد

حیدرآباد کے بس بھون پر اے بی وی پی کا دھرنا

حیدرآباد کے آر ٹی سی کراس روڈ پر واقع بس بھون کے قریب اُس وقت کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی جب اَکھِل بھارتیہ وِدھیارتھی پریشد (اے بی وی پی ) کے کارکنوں اور طلبہ نے اچانک دھرنا دیا۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے آر ٹی سی کراس روڈ پر واقع بس بھون کے قریب اُس وقت کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی جب اَکھِل بھارتیہ وِدھیارتھی پریشد (اے بی وی پی ) کے کارکنوں اور طلبہ نے اچانک دھرنا دیا۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

حالیہ دنوں آر ٹی سی انتظامیہ نے اسٹوڈنٹ بس پاس چارجس میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر ریاست بھر میں شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔


ای بی وی پی اور دیگر طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ بس پاس چارجس میں اضافہ غریب اور متوسط طبقہ کے طلبہ پر گہرے اثرات ڈالے گا، اس لیے آر ٹی سی کو یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔


اسی مطالبہ کے تحت آج صبح اچانک اے بی وی پی کے کارکن بڑی تعداد میں طلبہ کے ہمراہ بس بھون پہنچے اور عمارت کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی۔

پولیس نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہیں روکنے کی کوشش کی تو مظاہرین نے بس بھون کے گیٹ کے سامنے بیٹھ کر احتجاج شروع کر دیا اور اضافی بس چارجس کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔