تلنگانہ

فون ٹیپنگ کیس کے ذریعے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کا الزام

دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ریونت ریڈی کے دفتر کی جانب سے متعلقہ حلقوں کو ہدایت دی گئی کہ تلنگانہ میں پینے کے پانی کی قلت، آبپاشی کے پانی کی فراہمی یا برقی کٹوتی جیسے مسائل میں سے کسی ایک پر توجہ دینے کے بجائے عوام کی توجہ فون ٹیپنگ کیس کی جانب مبذول کرائی جائے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے دفتر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے فون ٹیپنگ کیس کو موضوعِ بحث بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ریونت ریڈی کے دفتر کی جانب سے متعلقہ حلقوں کو ہدایت دی گئی کہ تلنگانہ میں پینے کے پانی کی قلت، آبپاشی کے پانی کی فراہمی یا برقی کٹوتی جیسے مسائل میں سے کسی ایک پر توجہ دینے کے بجائے عوام کی توجہ فون ٹیپنگ کیس کی جانب مبذول کرائی جائے۔

ان الزامات کے مطابق، چیف منسٹر کے دفتر سے بعض میڈیا اداروں کو مبینہ طور پر اسکرپٹس بھی روانہ کیے گئے ہیں، جن میں آئندہ ہفتے فون ٹیپنگ کیس پر بحث اور تنازع کو ہوا دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔

تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی ایسے کوئی شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ثابت ہو کہ چیف منسٹر کے دفتر نے واقعی اس طرح کی ہدایات جاری کی ہیں۔

تلنگانہ میں حکمرانی، بنیادی سہولتوں اور فون ٹیپنگ کیس پر سیاسی بحث کے درمیان یہ الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس معاملے پر ریاستی حکومت اور متعلقہ میڈیا اداروں کے ردعمل کا انتظار ہے۔