امریکہ و کینیڈا

ٹرمپ نے ایک بار پھر ‘گندے ممالک’ سے متعلق متنازع تبصرہ دہرایا، ہیٹی کے تارکینِ وطن سے متعلق بل پر ڈیموکریٹ سینیٹر کو نشانہ بنایا

مسٹر ٹرمپ نے جارجیا کے شہر پیری میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مسٹر اوسوف ایسے بل کی حمایت کر رہے ہیں، جس کے تحت ان ممالک کے تارکینِ وطن کو امریکہ میں رہنے کی اجازت مل جائے گی، جو ''دہشت گردی سے متاثر'' ہیں۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بعض ممالک کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر جان اوسوف ہیٹی کے تارکینِ وطن کو عارضی تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کرنا چاہتے ہیں۔


مسٹر ٹرمپ نے جارجیا کے شہر پیری میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مسٹر اوسوف ایسے بل کی حمایت کر رہے ہیں، جس کے تحت ان ممالک کے تارکینِ وطن کو امریکہ میں رہنے کی اجازت مل جائے گی، جو ”دہشت گردی سے متاثر” ہیں۔


مسٹر ٹرمپ نے کہاکہ ”جان اوسوف نے ذاتی طور پر ایسے بل کی حمایت کی ہے، جو لیبیا، یمن، ہیتی اور صومالیہ جیسے دہشت گردی سے متاثرہ ممالک سے بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کو امریکہ لانے کی اجازت دے گا۔ یاد ہے، میں نے ان ممالک کے لیے کیا لفظ استعمال کیا تھا؟ یہ گندے ممالک ہیں۔”


انہوں نے مزید کہاکہ ”یاد ہے، مجھے کتنی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا؟ یاد ہے، ڈیموکریٹس نے مجھ پر کتنی تنقید کی تھی؟” انہوں نے اس تنازع کا حوالہ دیا جو 2018 میں سینیٹروں کے ساتھ امیگریشن پالیسی پر ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران ان کے تبصرے کے بعد پیدا ہوا تھا۔


مسٹر ٹرمپ نے امریکہ میں مقیم صومالی باشندوں کے بارے میں بھی غیر مصدقہ دعوے کیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان میں سے 98 فیصد لوگ کام نہیں کرتے اور چوری کے ذریعے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”آپ جانتے ہیں، یہاں صومالیہ سے آنے والے ہمارے 98 فیصد لوگ کام نہیں کرتے۔

انہیں کام کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے، کیونکہ وہ اتنی چوری کرتے ہیں کہ ہر ایک کے پاس مرسڈیز بینز ہے۔” انہوں نے مزید کہاکہ ”ان کا آئی کیو کم ہے اور وہ آپ سے بہتر زندگی گزارتے ہیں۔”