ایران کے ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر امریکہ نے بیرون ملک تعینات اہلکاروں کے لیے سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا
امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سرکاری ملازمین کی سلامتی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان کچھ سفارتی مشنوں سے اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلانا شروع کر دیا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سرکاری ملازمین کی سلامتی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان کچھ سفارتی مشنوں سے اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلانا شروع کر دیا ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹس میں ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کا امکان بھی بڑھ رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئے فوجی آپریشن کا اشارہ دیا ہے، جبکہ ایران نے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کا انتباہ دیا ہے۔ 23 اکتوبر کی ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، ایران نے بیرون ملک امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی سازشیں تیز کر دی ہیں۔ دریں اثنا، ایرانی فوج نے جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس کے اوپر امریکہ میں تیار کردہ ایک ڈرون کو مار گرایا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر سعودی عرب سے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کو نکلنے کا حکم دیا ہے۔ لبنان، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن میں بھی امریکی مشنوں کے عملے کی تعداد میں کمی کا منصوبہ ہے، جس سے سفارت کاروں کے اہل خانہ کو منتقلی کی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ ‘یو ایس ایس جارج واشنگٹن’ طیارہ بردار جہاز کے اسٹرائیک گروپ کو بھی تیار کیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیل ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علاقائی سلامتی کو کمزور کرنے کا الزام غیر ملکی افواج پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے امن لانے میں ناکام رہے ہیں۔ سفارتی اہلکاروں کی منتقلی اور فوجی تیاریوں کے درمیان مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑے تصادم کا خطرہ شدت اختیار کر گیا ہے۔