اداکارہ پرتیوشا کی موت کامعاملہ۔پولیس کے سامنے خودسپرد ہونے سپریم کورٹ کی ملزم کو ہدایت
عدالت عظمیٰ نے ملزم جی سدھارتھ ریڈی کی اس درخواست کو خارج کر دیا جس میں انہوں نے ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کو چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے سدھارتھ ریڈی کو حکم دیا ہے کہ وہ چار ہفتوں کے اندر پولیس کے سامنے خود سپردگی اختیار کریں۔
حیدرآباد: دو دہائیوں قبل تلگو ریاستوں میں سنسنی پھیلانے والی فلم اداکارہ پرتیوشا کی موت کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے منگل کو اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے ملزم جی سدھارتھ ریڈی کی اس درخواست کو خارج کر دیا جس میں انہوں نے ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کو چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے سدھارتھ ریڈی کو حکم دیا ہے کہ وہ چار ہفتوں کے اندر پولیس کے سامنے خود سپردگی اختیار کریں۔
اداکارہ پرتیوشا اور سدھارتھ ریڈی حیدرآباد میں انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے دوران ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار تھے۔
پرتیوشا نے بعد ازاں فلمی دنیا میں قدم رکھا جبکہ سدھارتھ نے انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔ 23 فروری 2002 کو دونوں نے مبینہ طور پر ایک ساتھ زہر پی لیا تھا جس کے بعد انہیں پرائیویٹ اسپتال منتقل کیا گیا۔
پرتیوشا کی موت 24 فروری کو ہو گئی تھی جبکہ سدھارتھ ریڈی علاج کے بعد 9 مارچ کو ڈسچارج ہواتھا۔ طبی معائنے میں پایا گیا کہ اس نے کولڈ ڈرنک میں کیڑے مار دوا ملا کر پی تھی اور ڈاکٹروں نے کسی بھی قسم کے جنسی حملہ یا گلا دبانے کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔
سی بی آئی نے اس کیس کی تحقیقات کی اور ملزم کے خلاف خودکشی کے لئے اکسانے (دفعہ 306) اور اقدامِ خودکشی (دفعہ 309) کے تحت چارج شیٹ داخل کی۔ 2004 میں حیدرآباد میٹروپولیٹن سیشن جج نے سدھارتھ ریڈی کو 5 سال قید بامشقت اور 5 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی جس کے بعد 2011 میں ہائی کورٹ نے اس سزا کو کم کر کے 2 سال کر دیا لیکن جرمانہ بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دیا۔
سال 2012 میں سدھارتھ ریڈی اور پرتیوشا کے خاندانوں نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کیں۔ طویل سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے حال ہی میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جسے آج سنایاگیا۔ عدالت نے پرتیوشا کی ماں کی اپیل اور سدھارتھ ریڈی کے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے سدھارتھ کو فوری طور پر اپنی بقیہ سزا کاٹنے کے لئے خودسپردگی اختیار کرنے کی ہدایت دی۔