سپریم کورٹ کی اجازت کے بعد ہریش رانا کو موت دی جائے گی، گھر سے رخصتی کی ویڈیو نے سب کو رُلا دیا
سپریم کورٹ کی جانب سے 11 مارچ کو ہریش رانا کو خواہشِ موت (اِچّھا مرتیو) کی اجازت دیے جانے کے بعد ان کی ایک جذباتی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جسے دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں نم ہو رہی ہیں۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ کی جانب سے 11 مارچ کو ہریش رانا کو خواہشِ موت (اِچّھا مرتیو) کی اجازت دیے جانے کے بعد ان کی ایک جذباتی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جسے دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں نم ہو رہی ہیں۔
Harish Rana Video: اطلاعات کے مطابق ہریش رانا گزشتہ 13 برسوں سے زندگی اور موت کے درمیان ایک ایسی حالت میں تھے جسے ڈاکٹروں کی زبان میں مستقل Vegetative State کہا جاتا ہے۔ وہ نہ بول سکتے تھے، نہ چل سکتے تھے اور نہ ہی اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھ پا رہے تھے۔ اب سپریم کورٹ کی اجازت کے بعد انہیں لائف سپورٹ سسٹم سے ہٹایا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی 22 سیکنڈ کی ویڈیو میں برہما کماری خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک دیدی، لولی نامی خاتون، ہریش رانا کے ماتھے پر تلک لگاتی نظر آتی ہیں۔ اس دوران وہ کہتی ہیں:
“سب کو معاف کرتے ہوئے اور سب سے معافی مانگتے ہوئے اب جاؤ… ٹھیک ہے…”
ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ہریش (مریض) کی آنکھیں جیسے کوئی اشارہ کر رہی ہوں اور ہونٹ ہلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ جذباتی ہو رہے ہیں۔
ہریش رانا کے افراد خاندان برہما کماری سماج سے وابستہ ہیں۔ جب انہیں غازی آباد میں واقع اپنے گھر سے دہلی کے ایمس اسپتال لے جایا گیا تو والدین، بھائی اور دیگر رشتہ داروں کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ اس موقع پر ہریش کے والد اشوک نے خاندان کے تمام افراد سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ یہ قدم مجبوری میں اٹھا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ہریش رانا ایک ہونہار انجینئرنگ کے طالب علم تھے۔ ایک خوفناک حادثے نے ان کی زندگی مکمل طور پر بدل دی اور وہ گزشتہ 13 سال سے طبی آلات اور مشینوں کے سہارے زندہ تھے۔ اب سپریم کورٹ کی اجازت کے بعد انہیں موت کی اجازت (اِچّھا مرتیو) دی جائے گی، جسے ہندوستان میں اس نوعیت کا پہلا معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔