حیدرآباد میں گھریلو ملازمین کی چوریوں میں خطرناک اضافہ، پولیس نے شہریوں کو ہائی الرٹ کر دیا
شہر میں گھریلو ملازمین کی جانب سے چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر حیدرآباد سٹی پولیس نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی گھریلو ملازم کو ملازمت پر رکھنے سے قبل اس کی پولیس ویریفکیشن لازمی طور پر کرائی جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پس منظر کی جانچ نہ کرنے کی وجہ سے جائیداد سے متعلق جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حیدرآباد: شہر میں گھریلو ملازمین کی جانب سے چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر حیدرآباد سٹی پولیس نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی گھریلو ملازم کو ملازمت پر رکھنے سے قبل اس کی پولیس ویریفکیشن لازمی طور پر کرائی جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پس منظر کی جانچ نہ کرنے کی وجہ سے جائیداد سے متعلق جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پولیس کمشنر وی سی سجنار کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران حیدرآباد میں گھریلو ملازمین کی جانب سے چوری کے 565 مقدمات درج کیے گئے۔ ان میں 65 سنگین جبکہ 500 عام نوعیت کے مقدمات شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق آئی ٹی ملازمین، اکیلے رہنے والے طلبہ، بزرگ شہری اور کاروباری ادارے ایسے جرائم کا سب سے زیادہ نشانہ بن رہے ہیں۔
زون وار اعداد و شمار کے مطابق جوبلی ہلز میں سب سے زیادہ 173 مقدمات درج ہوئے، جبکہ سکندرآباد میں 88، خیرت آباد میں 77، گولکنڈہ میں 70، راجندر نگر میں 63، شمس آباد میں 49 اور چارمینار زون میں 45 مقدمات ریکارڈ کیے گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بعض گھریلو ملازمین پہلے گھر کے افراد کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، پھر ان کی روزمرہ کی سرگرمیوں، قیمتی سامان، چابیوں کی جگہ اور سی سی ٹی وی کی کمزور جگہوں پر نظر رکھتے ہیں۔ مناسب موقع ملتے ہی وہ چوری کی واردات انجام دیتے ہیں۔ پولیس کے مطابق حالیہ کچھ معاملات میں دوسرے ریاستوں اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے منظم گروہوں کے افراد بھی گھریلو ملازم بن کر گھروں میں داخل ہوئے اور بعد میں چوری کی وارداتوں میں ملوث پائے گئے۔
حیدرآباد پولیس نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ گھریلو ملازم رکھنے سے پہلے اس کا آدھار کارڈ یا کوئی اور سرکاری شناختی دستاویز، حالیہ تصویر، مستقل پتہ اور موبائل نمبر ضرور حاصل کریں۔ اس کے ساتھ اس کی سابقہ ملازمت کی تفصیلات کی تصدیق کریں اور پولیس ویریفکیشن مکمل ہونے کے بعد ہی ملازمت پر رکھیں۔ نئے ملازمین کی ابتدائی چند ہفتوں تک خصوصی نگرانی رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
پولیس نے رہائشی فلاحی انجمنوں (RWAs) اور گیٹڈ کمیونٹیز سے بھی اپیل کی ہے کہ گھریلو ملازمین کے داخلے کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے، انہیں شناختی کارڈ یا انٹری پاس جاری کیے جائیں اور سی سی ٹی وی کیمرے ہر وقت فعال رکھے جائیں۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی گھریلو ملازم کی سرگرمی مشتبہ محسوس ہو، چابیاں اچانک گم ہو جائیں یا ملازم بغیر اطلاع کے لاپتہ ہو جائے تو فوری طور پر ڈائل 100 یا حیدرآباد سٹی پولیس کی واٹس ایپ ہیلپ لائن
94906 16555
پر اطلاع دیں۔