تلنگانہ

کلیان لکشمی اسکیم ختم کرنے کی سازش کا الزام، ہائی کورٹ کا 8 سرکاری احکامات پر حکمِ التوا

تلنگانہ میں کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیموں کے نفاذ سے متعلق 8 سرکاری احکامات (GOs) پر ہائی کورٹ کی جانب سے حکمِ التوا جاری کیے جانے کے بعد سیاسی تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ چیف منسٹر اے. ریونت ریڈی کی حکومت جان بوجھ کر عدالت میں اپنا موقف پیش کرنے میں تاخیر کر رہی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیموں کے نفاذ سے متعلق 8 سرکاری احکامات (GOs) پر ہائی کورٹ کی جانب سے حکمِ التوا جاری کیے جانے کے بعد سیاسی تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ چیف منسٹر اے. ریونت ریڈی کی حکومت جان بوجھ کر عدالت میں اپنا موقف پیش کرنے میں تاخیر کر رہی ہے۔

اپوزیشن کے مطابق، ان اسکیموں کی آئینی حیثیت سے متعلق دائر مقدمے میں عدالت نے حکومت کو اپنا کاؤنٹر داخل کرنے کے لیے چار ہفتوں کا وقت دیا تھا، تاہم مقررہ مدت میں جواب داخل کرنے کے بجائے حکومت کی جانب سے مزید مہلت طلب کی گئی۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ عدالت نے حکومت کو کاؤنٹر داخل کرنے کی ہدایت دی تھی، لیکن ایڈوکیٹ جنرل نے ایک مرتبہ پھر مزید وقت مانگا۔ حکومت کی جانب سے تاخیر پر ہائی کورٹ نے ناراضگی کا اظہار کیا اور مبینہ طور پر کلیان لکشمی کی ادائیگیوں پر بھی حکمِ التوا عائد کیا۔

اپوزیشن جماعتوں نے ریونت ریڈی حکومت پر غریب ایس سی، ایس ٹی، اقلیتی اور بی سی طبقات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت ایک تولہ سونا دینے کا وعدہ کرکے کلیان لکشمی اسکیم کو ختم کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔

اپوزیشن نے مزید الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے سابق چیف منسٹر کے. چندرا شیکھر راؤ کی جانب سے شروع کی گئی کئی فلاحی اسکیموں کو نظر انداز یا ختم کردیا ہے، جن میں کنتی ویلوگو، کے سی آر کٹ، ریتو بندھو، ریتو بیمہ اور دلت بندھو شامل ہیں۔

اپوزیشن کے مطابق کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کلیان لکشمی اور شادی مبارک کے چیکس کی تقسیم بھی سست روی کا شکار ہے۔ 2024 اور 2025 میں شادی کرنے والی کئی غریب خواتین کو اب تک کلیان لکشمی کی مالی امداد نہیں مل سکی ہے۔

اپوزیشن نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران حکومت نے تقریباً 1.50 لاکھ کلیان لکشمی درخواستیں زیر التوا رکھی ہیں۔

اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام زیر التوا درخواستوں کو فوری طور پر منظور کرتے ہوئے مستحقین کو مالی امداد جاری کی جائے۔ دوسری جانب، معاملے میں حکومت کا تفصیلی موقف اور ہائی کورٹ کی آئندہ کارروائی سامنے آنا باقی ہے۔