بین الاقوامی

انجلینا جولی نے غزہ کی تباہی کی قبل اور بعد کی تصاویر شیئر کردیں

انجلینا جولی نے اتوار 4 اکتوبر کو انسٹاگرام پر گوگل ارتھ سے لی گئی تصاویر پوسٹ کیں، جن میں غزہ کے مختلف علاقوں کی 2022 اور 2026 کی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ تصاویر میں رفح، خان یونس اور غزہ سٹی کے مختلف علاقوں کو دکھایا گیا ہے۔

غزہ: ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی سابق خصوصی سفیر انجلینا جولی نے غزہ میں ہونے والی تباہی کی شدت کو اجاگر کرتے ہوئے سیٹلائٹ کی ’’پہلے اور بعد‘‘ کی تصاویر شیئر کی ہیں۔

انجلینا جولی نے اتوار 4 اکتوبر کو انسٹاگرام پر گوگل ارتھ سے لی گئی تصاویر پوسٹ کیں، جن میں غزہ کے مختلف علاقوں کی 2022 اور 2026 کی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ تصاویر میں رفح، خان یونس اور غزہ سٹی کے مختلف علاقوں کو دکھایا گیا ہے۔

تصاویر کے ایک سیٹ میں رفح کے علاقے میں واقع القادسیہ اسکول کے اطراف کا منظر دکھایا گیا، جبکہ دیگر تصاویر خان یونس اور غزہ سٹی کی عمر مختار اسٹریٹ کی ہیں۔ تازہ سیٹلائٹ تصاویر میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی جاسکتی ہے، جہاں متعدد عمارتیں اور رہائشی ڈھانچے مکمل طور پر غائب ہوچکے ہیں۔

انجلینا جولی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اب گوگل ارتھ کھول کر دیکھا جاسکتا ہے کہ غزہ کے ساتھ کیا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے کے پورے محلے ملبے میں تبدیل ہوچکے ہیں، جبکہ مکانات، اسکول، جامعات، اسپتال، سڑکیں اور پانی و صفائی کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر یا تباہ ہوچکا ہے۔

جولی نے اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 16 جون 2026 تک غزہ کے 82 فیصد ڈھانچے متاثر ہوچکے تھے، جن میں تقریباً دو تہائی ڈھانچے مکمل طور پر تباہ قرار دیے گئے۔

انہوں نے موسم سرما کی آمد سے قبل غزہ کی سنگین انسانی صورتحال کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق تقریباً 19 لاکھ 80 ہزار افراد، یعنی غزہ کی 94 فیصد آبادی، پناہ گاہ اور ضروری اشیا کی امداد کی محتاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ امداد اور پناہ گاہوں کے لیے درکار سامان کی فراہمی اب بھی پابندیوں اور تاخیر کا شکار ہے۔

انجلینا جولی نے کہا کہ سیٹلائٹ تصاویر غزہ میں ہونے والی جسمانی تباہی کو واضح طور پر دکھا سکتی ہیں، لیکن یہ تصاویر اس حقیقت کو بیان نہیں کرسکتیں کہ اس تباہی کے درمیان زندگی گزارنا کیسا ہے، خاندانوں نے کیا کچھ کھویا ہے اور زندہ بچ جانے والے افراد کن حالات کا سامنا کررہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ غزہ کے شہریوں کو موسم سرما سے قبل محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جائیں، انسانی امداد مطلوبہ پیمانے پر پہنچائی جائے اور اسپتالوں کو ضروری طبی سامان فراہم کیا جائے۔

جولی نے فلسطینی عوام کے لیے ایسے حالات پیدا کرنے کا بھی مطالبہ کیا جن میں وہ اپنے مکانات، اسکول، اسپتال اور تباہ شدہ بستیاں دوبارہ تعمیر کرسکیں۔

انہوں نے اپنی پوسٹ کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ تباہی سب کے سامنے ہے، ضروریات بھی معلوم ہیں، اب اہم بات یہ ہے کہ آیا ان ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے یا نہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 74 ہزار فلسطینی جاں بحق جبکہ ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔