مسجد الحرام میں یہ حرکت پڑ گئی مہنگی، انڈین انفلوئنسر حراست میں
معاذ کا کہنا ہے کہ انہیں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا، جہاں انہوں نے نمازِ عشاء بھی ادا کی۔ بعد میں ایک وارننگ لیٹر پر دستخط لینے کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ اس تحریری وارننگ میں آئندہ ایسی سرگرمی دوبارہ نہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
مکہ مکرمہ: انڈین اسلامی انفلوئنسر معاذ ویور (Maaz Weaver) نے دعویٰ کیا ہے کہ مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام (حرم شریف) میں کعبہ کے سامنے پروموشنل ویڈیو ریکارڈ کرنے پر سعودی حکام نے انہیں حراست میں لے لیا۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں معاذ ویور نے بتایا کہ وہ خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر ویڈیو بنا رہے تھے کہ کچھ ہی دیر بعد پولیس اہلکار ان کے پاس پہنچے۔
ان کے مطابق، ویڈیو ذاتی نوعیت کی نہیں بلکہ پروموشنل مقصد کے لیے بنائی جا رہی تھی۔ پولیس اہلکار انہیں ایک اسٹیشن لے گئے، جہاں ان سے پوچھ گچھ کی گئی کہ وہ کس چیز کی تشہیر کر رہے تھے، ویڈیو میں کیا کہہ رہے تھے اور اسے کس مقصد سے ریکارڈ کر رہے تھے۔
معاذ کا کہنا ہے کہ انہیں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا، جہاں انہوں نے نمازِ عشاء بھی ادا کی۔ بعد میں ایک وارننگ لیٹر پر دستخط لینے کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ اس تحریری وارننگ میں آئندہ ایسی سرگرمی دوبارہ نہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
انفلوئنسر نے واضح کیا کہ زائرین گرینڈ مسجد میں تصاویر، سیلفیاں اور ذاتی ویڈیوز بنا سکتے ہیں، تاہم مقدس مقام کو تجارتی یا پروموشنل مواد کی تشہیر کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
معاذ نے اس واقعے کو اپنے لیے ایک سبق قرار دیتے ہوئے دیگر زائرین سے بھی سعودی قوانین کی پابندی کرنے اور مسجد الحرام کے تقدس کا احترام کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے سعودی پولیس کے رویے کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اہلکاروں نے ان کے ساتھ احترام سے پیش آتے ہوئے پوچھ گچھ کی۔ ان کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے نہ انہیں ڈانٹا اور نہ ہی کسی قسم کی بدسلوکی یا جسمانی زیادتی کی۔
مقدس مقامات پر سخت ضوابط
سعودی عرب میں مسجد الحرام، مکہ مکرمہ اور مسجد نبوی، مدینہ منورہ میں نظم و ضبط اور عبادت کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے سخت قوانین نافذ ہیں۔ سیاسی یا فرقہ وارانہ نعرے، بینرز، جھنڈے اور ایسی سرگرمیاں جن سے عبادت میں خلل پڑے یا سکیورٹی متاثر ہو، ممنوع ہیں۔
اس سے قبل بھی سعودی حکام مقدس مقامات پر ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کر چکے ہیں۔ اپریل 2022 میں مسجد نبوی میں سیاسی نعرے لگانے کے ایک واقعے کے بعد متعدد پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی سال ستمبر میں ایک شخص کو مسجد الحرام میں عمرہ کے دوران بینر لہرانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
سعودی حکام متعدد مواقع پر واضح کرچکے ہیں کہ دونوں مقدس مساجد عبادت کے لیے مخصوص مقامات ہیں اور انہیں سیاسی سرگرمیوں، مظاہروں یا ایسی تشہیری سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔